امریکہ اور ایران کو جنگ بندی کا منصوبہ موصول، فیلڈ مارشل گزشتہ رات امریکی اور ایرانی حکام سے مسلسل رابطے میں رہے: رائٹرز
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگی کشیدگی کم کرنے کا منصوبہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )امریکہ اور ایران کو جنگی کشیدگی ختم کرنے کے ایک منصوبے کا ابتدائی خاکہ موصول ہو گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک دن بعد سامنے آئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے معاہدہ نہ کیا تو اس پر ’’آگ برسا دی جائے گی۔‘‘ تاہم ایران نے کہا ہے کہ عارضی جنگ بندی کے بدلے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اس منصوبے کا حصہ نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان نے یو اے ای کو شکست دے دی
امن منصوبے کے مراحل
رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ امن منصوبہ دو مرحلوں پر مشتمل ہے، پہلے فوری جنگ بندی اور اس کے بعد ایک جامع معاہدہ۔ ایک ذریعے کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر پیر کی رات بھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے میں رہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایس آئی ایف سی اپیکس کمیٹی کا اجلاس پیر کو طلب کرنے کا فیصلہ
45 روزہ جنگ بندی کی بات چیت
خبر رساں ادارے Axios نے اتوار کو رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ، ایران اور علاقائی ثالث ایک ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی پر بات چیت کر رہے ہیں، جو دو مرحلوں پر مشتمل معاہدے کا حصہ ہو سکتی ہے اور بالآخر جنگ کے مستقل خاتمے تک پہنچ سکتی ہے۔ اس رپورٹ میں امریکی، اسرائیلی اور علاقائی ذرائع کا حوالہ دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا انتہائی نازک موڑ پر کھڑی ہے، اگر اقدامات نہ کیے گئے تو انسانیت تباہی کے دہانے تک پہنچ سکتی ہے، بل گیٹس کی وارننگ
ٹرمپ کا سخت پیغام
اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک سخت پیغام میں ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا اور منگل تک آبنائے کو نہ کھولا تو ایران کے توانائی اور ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے پر مزید حملے کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا امریکی تھنک ٹینک ماہر کوگل مین بھی بک گئے، دنیا مان چکی مگر پاکستان میں کھ لوگ کبھی نہیں مانیں گے: وسیم عباسی
تازہ فضائی حملے
پیر کے روز خطے کے مختلف حصوں میں تازہ فضائی حملوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کو پانچ ہفتوں سے زیادہ ہو چکے ہیں، جن میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے سے معیشتیں متاثر ہوئیں۔
آبنائے ہرمز کی حالت
ایران نے ان حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا، جو دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، اور اس کے ساتھ اسرائیل، امریکی فوجی اڈوں اور خلیج کے اردگرد توانائی کے ڈھانچوں کو بھی نشانہ بنایا۔








