پاکستان کی گوادر بندرگاہ پر بحری سرگرمیوں میں اضافہ، مال برادر جہاز سامان لے کر پہنچ گیا
گوادر میں بحری سرگرمیوں میں اضافہ
گوادر(ڈیلی پاکستان آن لائن )گوادر پورٹ پر بحری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے کیونکہ کارگو کی ترسیل بڑھ رہی ہے اور بنیادی ڈھانچے میں بہتری کے باعث بندرگاہ کا علاقائی تجارت میں کردار مضبوط ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ الیکشن میں پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر صائمہ خالد کو شوکاز نوٹس
نیا کارگو جہاز گوادر پورٹ پر پہنچنا
پاکستان ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق کارگو جہاز MV Riva Glory گوادر پورٹ پر لنگر انداز ہوا، جو14 ہزار 629 میٹرک ٹن سامان لے کر آیا تھا۔ حکام کے مطابق یہ آمد گوادر کو علاقائی تجارتی نیٹ ورک کا اہم حصہ بنانے کی کوششوں میں ایک اہم قدم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گاڑی میں کتابیں پڑھنے کا اپنا ہی لطف ہے، خاص طور پر بالآئی نشست یعنی برتھ مل جائے تو انسان دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہو کر کتب بینی میں گم ہو جاتا ہے۔
بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد
گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین نورالحق بلوچ نے کہا کہ جہاز کی آمد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کا گوادر پورٹ پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق جدید انفراسٹرکچر اور مؤثر لاجسٹک نظام کے باعث گوادر عالمی تجارت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بٹ کوائن کی قیمت میں پہلی مرتبہ ایک لاکھ ڈالر سے تجاوز کر گئی
پیشہ ورانہ عمل کا آغاز
جہاز کے لنگر انداز ہوتے ہی سامان اتارنے کا عمل شروع کر دیا گیا اور حکام کے مطابق تمام آپریشنز بغیر کسی رکاوٹ کے پیشہ ورانہ انداز میں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مدینہ منورہ میں نکاح کرنے والی لائبہ خان کی دعائے خیر کی تصاویر وائرل
عالمی فریٹ آپریٹرز کی نظر میں گوادر
رپورٹ کے مطابق خلیج فارس میں کشیدگی اور روایتی بحری راستوں پر دباؤ کے باعث عالمی فریٹ آپریٹرز متبادل راستوں پر غور کر رہے ہیں اور گوادر کو ایک محفوظ اور اسٹریٹجک بندرگاہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ گوادر کی جغرافیائی اہمیت، گہرے سمندر کی بندرگاہ اور جدید سہولیات اسے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان اہم تجارتی مرکز بنا رہی ہیں۔
مقامی سرمایہ کاروں کے لیے مواقع
چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نے مقامی سرمایہ کاروں کو بھی گوادر فری زون میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اس سے صنعتی ترقی، مقامی معیشت میں بہتری اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔








