اسرائیل کے مرکز میں متعدد علاقے دھماکوں سے لرز اُٹھے، حیفہ میں عمارت کے ملبے سے 4 لاشیں برآمد
حملوں کے نتیجے میں اسرائیل کا مرکز متاثر
تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل کے مرکز میں متعدد علاقے دھماکوں سے لرز اُٹھے، گزشتہ رات سے لبنان اور ایران سے متواتر حملے کیے گئے۔ حیفہ میں میزائل حملے سے تباہ ہونے والی عمارت کے ملبے سے 4 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کا پاکستانی ایئر ٹریفک کنٹرولرز کو کانفرنس میں شرکت کیلئے ویزا دینے سے انکار
امدادی کارروائیاں
’’جنگ‘‘ کے مطابق اسرائیلی شہر حیفہ میں ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کے بعد امدادی ٹیموں نے ملبے تلے دبے 4 افراد کی لاشیں نکال لیں، جبکہ ایک اور حملے میں مزید افراد زخمی ہوئے اور نقصان بڑھ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: 2 دن کے تنازع میں پاکستان کی کارکردگی ٹیسٹ ہوئی، کسی کو صلح صفائی کا نہیں کہا، 7 طیارے گرائے: اسحاق ڈار کی خارجہ پالیسی پر میڈیا کو بریفنگ
لاشوں کی تلاش کا آپریشن
ریسکیو حکام کے مطابق، پیر کے روز کئی گھنٹوں پر محیط پیچیدہ آپریشن کے بعد دو افراد کو ملبے سے مردہ حالت میں نکالا گیا، بعد ازاں ایک 40 سالہ مرد اور 35 سالہ خاتون کی لاشیں بھی برآمد کر لی گئیں۔ آخری لاش حملے کے تقریباً 18 گھنٹے بعد نکالی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: سابق ایرانی ولی عہد نے ایران میں رجیم کی تبدیلی کے بعد کا ’’منصوبہ‘‘ بھی شیئر کر دیا
عمارت کو شدید نقصان
ابتدائی طور پر چار افراد لاپتہ قرار دیئے گئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ عمارت کو شدید نقصان پہنچا تھا اور اس کے گرنے کا خطرہ موجود تھا۔
یہ بھی پڑھیں: میرے پاس 50 کروڑ روپے نہیں، اگر ہوتے تو میں بھی آجاتا” مرزا آفریدی کی پی ٹی آئی میں واپسی سے متعلق فواد چوہدری کا جواب
میزائل کی تحقیقات
تحقیقات کے مطابق میزائل کا وار ہیڈ جس میں سیکڑوں کلوگرام بارودی مواد موجود تھا، ٹکرانے کے وقت پھٹا نہیں، تاہم شدید رفتار (کائنیٹک انرجی) کی وجہ سے عمارت کی کئی منزلیں منہدم ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی چوک کے مناظر: جلی ہوئی ٹرک، ٹوٹی گاڑیاں، سڑک پر بکھرے شیشے اور عمران خان کے پوسٹرز کے ساتھ سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے بعد کا حال
امکانات کی بات
ریسکیو اہلکاروں کے مطابق اگر وارہیڈ پھٹ جاتا تو نہ صرف پوری عمارت بلکہ اردگرد کے مکانات بھی مکمل طور پر تباہ ہو سکتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری حج سکیم: تین مرتبہ مدت بڑھانے کے باوجود 7 ہزار کم درخواستیں موصول، تمام کامیاب قرار
مشکل ترین آپریشن
ریسکیو حکام نے اس آپریشن کو جنگ کے دوران سب سے مشکل کارروائیوں میں سے ایک قرار دیا، کیونکہ عمارت کے مزید گرنے کا خطرہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی آئی خان واقعہ واضح کرتا ہے امن دشمن عناصر ایک بار پھر ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،طارق فضل چودھری
حملوں کی نوعیت
اسرائیلی فوج کے مطابق میزائل فضا میں ہی ٹکڑوں میں بکھر گیا تھا، جس کی وجہ سے اس کا راستہ تبدیل ہو گیا اور دفاعی نظام اسے نشانہ بنانے میں ناکام رہا۔ دوسرا حملہ پیر کی صبح کیا گیا، جس میں ایک اور ایرانی میزائل نے اسی علاقے کو نشانہ بنایا، اس بار کلسٹر وارہیڈ استعمال کیا گیا، جس میں 4 افراد زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: بہاول کی شدید گرمی میں سورج دل کھول کر آگ برسا رہا تھا، مخلص لوگ قسمت سے ہی ملتے ہیں، مہمانوں کی پلیٹ میں چن چن کر بوٹیاں ڈالتے تھے
بم شیٹرز کی حفاظت
ریسکیو حکام کے مطابق حملوں میں زیادہ تر لوگ محفوظ رہے کیونکہ وہ بم شیلٹرز میں موجود تھے، جبکہ ہلاک ہونے والے افراد محفوظ کمروں میں نہیں تھے۔
اسرائیل کا دفاعی نظام
اسرائیل میڈیا کا کہنا ہے کہ مختلف سمتوں سے متواتر حملوں کے باعث اسرائیلی دفاعی نظام ناکام ہورہا ہے، اسرائیل کو انٹرسیپٹر لوڈ کرنے میں وقت درکار ہوتا ہے۔








