اسرائیل کے مرکز میں متعدد علاقے دھماکوں سے لرز اُٹھے، حیفہ میں عمارت کے ملبے سے 4 لاشیں برآمد
حملوں کے نتیجے میں اسرائیل کا مرکز متاثر
تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل کے مرکز میں متعدد علاقے دھماکوں سے لرز اُٹھے، گزشتہ رات سے لبنان اور ایران سے متواتر حملے کیے گئے۔ حیفہ میں میزائل حملے سے تباہ ہونے والی عمارت کے ملبے سے 4 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ میں مزید 14 غیرقانونی افغان پناہ گزین گرفتار، 3 سہولت کار جیل منتقل
امدادی کارروائیاں
’’جنگ‘‘ کے مطابق اسرائیلی شہر حیفہ میں ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کے بعد امدادی ٹیموں نے ملبے تلے دبے 4 افراد کی لاشیں نکال لیں، جبکہ ایک اور حملے میں مزید افراد زخمی ہوئے اور نقصان بڑھ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: روس نے شمالی یوکرین پر حملے کے لیے 50 ہزار فوجی جمع کر لیے، اب تک کا بڑا دعویٰ
لاشوں کی تلاش کا آپریشن
ریسکیو حکام کے مطابق، پیر کے روز کئی گھنٹوں پر محیط پیچیدہ آپریشن کے بعد دو افراد کو ملبے سے مردہ حالت میں نکالا گیا، بعد ازاں ایک 40 سالہ مرد اور 35 سالہ خاتون کی لاشیں بھی برآمد کر لی گئیں۔ آخری لاش حملے کے تقریباً 18 گھنٹے بعد نکالی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی سفیر کی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ملاقات، مشکل وقت میں پاکستان سے ملنے والی بھرپور اخلاقی حمایت پر شکریہ ادا کیا
عمارت کو شدید نقصان
ابتدائی طور پر چار افراد لاپتہ قرار دیئے گئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ عمارت کو شدید نقصان پہنچا تھا اور اس کے گرنے کا خطرہ موجود تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اطلاعات پنجاب عظمٰی بخاری کی کرائم رپورٹرزایسوسی ایشن اور پی یو جے کے نو منتخب عہدیداران کو مبارک باد
میزائل کی تحقیقات
تحقیقات کے مطابق میزائل کا وار ہیڈ جس میں سیکڑوں کلوگرام بارودی مواد موجود تھا، ٹکرانے کے وقت پھٹا نہیں، تاہم شدید رفتار (کائنیٹک انرجی) کی وجہ سے عمارت کی کئی منزلیں منہدم ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کی شادی کی تقریبات شروع، مہندی کی تقریب، تصاویر بھی سامنے آگئیں
امکانات کی بات
ریسکیو اہلکاروں کے مطابق اگر وارہیڈ پھٹ جاتا تو نہ صرف پوری عمارت بلکہ اردگرد کے مکانات بھی مکمل طور پر تباہ ہو سکتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: مزہ تو تب ہے، جب حب الوطنی کا مظاہرہ دشمنوں کے سامنے کیا جائے، پاکستانی وکلاء اور صحافیوں کا وفد کانپور بار ایسوسی ایشن کی دعوت پر انڈیا گیا۔
مشکل ترین آپریشن
ریسکیو حکام نے اس آپریشن کو جنگ کے دوران سب سے مشکل کارروائیوں میں سے ایک قرار دیا، کیونکہ عمارت کے مزید گرنے کا خطرہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی پی این ایس سی کے بیڑے میں اضافے کیلئے لیز پر بحری جہاز لینے کی ہدایت
حملوں کی نوعیت
اسرائیلی فوج کے مطابق میزائل فضا میں ہی ٹکڑوں میں بکھر گیا تھا، جس کی وجہ سے اس کا راستہ تبدیل ہو گیا اور دفاعی نظام اسے نشانہ بنانے میں ناکام رہا۔ دوسرا حملہ پیر کی صبح کیا گیا، جس میں ایک اور ایرانی میزائل نے اسی علاقے کو نشانہ بنایا، اس بار کلسٹر وارہیڈ استعمال کیا گیا، جس میں 4 افراد زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: سبی میں تھانے کے قریب دستی بم حملہ
بم شیٹرز کی حفاظت
ریسکیو حکام کے مطابق حملوں میں زیادہ تر لوگ محفوظ رہے کیونکہ وہ بم شیلٹرز میں موجود تھے، جبکہ ہلاک ہونے والے افراد محفوظ کمروں میں نہیں تھے۔
اسرائیل کا دفاعی نظام
اسرائیل میڈیا کا کہنا ہے کہ مختلف سمتوں سے متواتر حملوں کے باعث اسرائیلی دفاعی نظام ناکام ہورہا ہے، اسرائیل کو انٹرسیپٹر لوڈ کرنے میں وقت درکار ہوتا ہے۔








