اسرائیل کے مرکز میں متعدد علاقے دھماکوں سے لرز اُٹھے، حیفہ میں عمارت کے ملبے سے 4 لاشیں برآمد

حملوں کے نتیجے میں اسرائیل کا مرکز متاثر

تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل کے مرکز میں متعدد علاقے دھماکوں سے لرز اُٹھے، گزشتہ رات سے لبنان اور ایران سے متواتر حملے کیے گئے۔ حیفہ میں میزائل حملے سے تباہ ہونے والی عمارت کے ملبے سے 4 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: الحمدللہ! ہر میدان سے خوشیوں اور خوش خبریوں کی ہوا چل پڑی ہے: وزیر اعلیٰ کی ارشد ندیم اور یاسر سلطان کو مبارکباد

امدادی کارروائیاں

’’جنگ‘‘ کے مطابق اسرائیلی شہر حیفہ میں ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کے بعد امدادی ٹیموں نے ملبے تلے دبے 4 افراد کی لاشیں نکال لیں، جبکہ ایک اور حملے میں مزید افراد زخمی ہوئے اور نقصان بڑھ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا تیز آندھی، بارش کے دوران حادثات پر اظہار افسوس، نشیبی علاقوں سے جلد از جلد نکاسیٔ آب کیلئے اقدامات کا حکم

لاشوں کی تلاش کا آپریشن

ریسکیو حکام کے مطابق، پیر کے روز کئی گھنٹوں پر محیط پیچیدہ آپریشن کے بعد دو افراد کو ملبے سے مردہ حالت میں نکالا گیا، بعد ازاں ایک 40 سالہ مرد اور 35 سالہ خاتون کی لاشیں بھی برآمد کر لی گئیں۔ آخری لاش حملے کے تقریباً 18 گھنٹے بعد نکالی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: خوش اور مطمئن رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو آپ سے بڑھ کر کوئی ذہین نہیں، احساس کمتری میں مبتلا ہیں تو آپ دوسروں کیساتھ اپنا تقابل کرتے ہیں

عمارت کو شدید نقصان

ابتدائی طور پر چار افراد لاپتہ قرار دیئے گئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ عمارت کو شدید نقصان پہنچا تھا اور اس کے گرنے کا خطرہ موجود تھا۔

یہ بھی پڑھیں: اسپین نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلا لیا

میزائل کی تحقیقات

تحقیقات کے مطابق میزائل کا وار ہیڈ جس میں سیکڑوں کلوگرام بارودی مواد موجود تھا، ٹکرانے کے وقت پھٹا نہیں، تاہم شدید رفتار (کائنیٹک انرجی) کی وجہ سے عمارت کی کئی منزلیں منہدم ہو گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے ردعمل میں پاکستان میں 35 سے زائد افراد کی جانیں ضائع ہونا انتہائی افسوسناک ہے، چودھری سرور

امکانات کی بات

ریسکیو اہلکاروں کے مطابق اگر وارہیڈ پھٹ جاتا تو نہ صرف پوری عمارت بلکہ اردگرد کے مکانات بھی مکمل طور پر تباہ ہو سکتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: لیسکو کے فنکشنل ہیڈز کا اہم اجلاس، بجلی چوری اور کرپشن کیخلاف پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کا فیصلہ

مشکل ترین آپریشن

ریسکیو حکام نے اس آپریشن کو جنگ کے دوران سب سے مشکل کارروائیوں میں سے ایک قرار دیا، کیونکہ عمارت کے مزید گرنے کا خطرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کے سابق شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے امریکی صدر کے ایران سے متعلق بیان کی حمایت کر دی

حملوں کی نوعیت

اسرائیلی فوج کے مطابق میزائل فضا میں ہی ٹکڑوں میں بکھر گیا تھا، جس کی وجہ سے اس کا راستہ تبدیل ہو گیا اور دفاعی نظام اسے نشانہ بنانے میں ناکام رہا۔ دوسرا حملہ پیر کی صبح کیا گیا، جس میں ایک اور ایرانی میزائل نے اسی علاقے کو نشانہ بنایا، اس بار کلسٹر وارہیڈ استعمال کیا گیا، جس میں 4 افراد زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی میں دی پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن (ترمیمی) بل 2025 منظور کر لیا گیا

بم شیٹرز کی حفاظت

ریسکیو حکام کے مطابق حملوں میں زیادہ تر لوگ محفوظ رہے کیونکہ وہ بم شیلٹرز میں موجود تھے، جبکہ ہلاک ہونے والے افراد محفوظ کمروں میں نہیں تھے۔

اسرائیل کا دفاعی نظام

اسرائیل میڈیا کا کہنا ہے کہ مختلف سمتوں سے متواتر حملوں کے باعث اسرائیلی دفاعی نظام ناکام ہورہا ہے، اسرائیل کو انٹرسیپٹر لوڈ کرنے میں وقت درکار ہوتا ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...