پنجاب اسمبلی کا اجلاس، اپوزیشن کی ناجائز چالانوں، سی سی ڈی اور سیاسی انتقام کے خلاف حکومت پر تنقید
پنجاب اسمبلی کا اجلاس
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن نے ناجائز چالانوں، سی سی ڈی اور سیاسی انتقام کے خلاف حکومت پر تنقید کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر حملہ غیرضروری اور خطرناک، کانگریس اپنے اختیار سے ٹرمپ کو روکے، کملا ہیرس
رانا آفتاب احمد کی تقریر
اپوزیشن رکن رانا آفتاب احمد نے ناجائز چالانوں کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ میرے 4 چالان ہو گئے ہیں، متعلقہ محکمہ کہتا ہے کہ چالان پر ریویو کیا جائے گا، اگر غلط ہوئے تو ختم کر دیے جائیں گے۔ جب انصاف نہیں ملے گا تو کیا ایوان میں بات بھی نہیں کریں گے۔ وہ ڈی سی او اور ڈی پی او کے محتاج نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ سی سی ڈی کیوں بنانی پڑی۔ جس پر ڈپٹی اسپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے کہا کہ سی سی ڈی کا پورے صوبے کو فائدہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی، ٹریول گینگ کا مبینہ کارنامہ، عمرے پر جانے والی فیملی سعودی عرب میں پھنس گئی
اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی کی باتیں
اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کا سیشن اپوزیشن کی ریکوزیشن پر بلایا گیا ہے۔ اپوزیشن ایوان میں اس لیے آتی ہے تاکہ عوامی مسائل پر حکومت سے جواب طلب کیا جا سکے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھے بیٹھ کر مشاورت کرنی چاہیے کیونکہ آنے والے دنوں میں معاشی ابتری کا خدشہ ہے۔ اگر اندرونی طور پر مضبوط ہوں گے تو سرحدوں پر بھی مضبوط ہوں گے۔ عالیہ حمزہ کے گھر پر چھاپے کے دوران چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا۔ میاں اسلم کو حلف اٹھانے نہیں دیا گیا اور وہ اپنی والدہ کی وفات پر بھی موجود نہیں ہو سکے۔
جمہوریت پر سوالات
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایسی جمہوریت پروان چڑھائی جا رہی ہے۔ اعجاز چوہدری کو ہر دس دن بعد گردوں کا ٹیسٹ کروانا ہوتا ہے۔ مطالبہ کرتے ہیں عالیہ حمزہ، اسلم اقبال، چوہدری اعجاز اور کلیم اللہ سمیت دیگر رہنماؤں کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں۔








