آج ہمارا پیش کردہ کھانا کھائیے گا تو بہت مزہ آئے گا، چند لگ پیس اور نان لیے اور دفتر آگئے، کھانا مزے سے کھایا پھر چائے پی کر کام کی طرف متوجہ ہوئے۔
ڈیل کی ابتدا
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط:109
اگلے دن میں اُس مالک مکان کو لے کر ”ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن“ کے دفتر گیا اور کُل واجبُ الادا رقم کا ”واؤچر“ بنوا کر واپس چل دئیے۔ راستے میں مالک مکان نے خواہش ظاہر کی کہ وہ گھر سے ہو کر دفتر آئے گا کیونکہ دوپہر کے کھانے کا وقت ہوگیا ہے۔ میں نے اُسے ترغیب دی کہ گھر کا کھانا تو وہ روز تناول فرماتا ہے، ذرا آج ہمارا پیش کردہ کھانا کھائیے گا تو بہت مزہ آئے گا۔ چنانچہ وہ رضامند ہوگیا۔ راستے میں ایک مشہور ریڑھی والا ”لیگ پیس اور نان“ بیچا کرتا تھا۔ لہٰذا وہاں سے ہم نے چند لگ پیس اور نان لیے اور دفتر میں آگئے۔ اتنے میں خریدار بھی آگیا۔ لہٰذا ہم نے وہ کھانا بڑے مزے سے کھایا اور پھر چائے منگوائی اور پھر چائے پی کر اصلی کام کی طرف متوجہ ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ کی ایڈمنسٹریشن میں تبدیلی، جسٹس خادم سومرو کو کمیٹی سے نکال دیا گیا
ڈیل کا حتمی مرحلہ
اسٹامپ فروش بھی ضروری کاغذات لے کر حاضر ہوگیا اور دونوں فریقین کے دستخط ثبت کروا کر ڈیل فائنل کردی۔ 2 گواہوں کے دستخط بھی ہوگئے اور واجب الادا رقم مالک مکان کو مل گئی۔ ”ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن“ کا بقایا قرضہ اب نئے خریدار کے ذمے ٹھہر گیا۔ خریدار نے بازار سے مٹھائی منگوائی اور سب کا منہ میٹھا کروایا اور پھر دونوں پارٹیاں خوش خوش گھروں کو چل دیں اور ہم اپنے کام میں لگ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈبے کو اچھی خاصی مصنوعی بارش سے گزارا جاتا ہے، ذرا ٹھہرئیے، اتنی آسانی سے یہ کام نہیں ہونیوالا، کچھ توقف کیجیے، ایک اور انتہائی ضروری کام ہوتا دیکھیے۔
خریدار کی شکایت
اگلے دن فروخت کنندہ شخص رونی صورت بنائے آ حاضر ہوا کہ کہنے لگا کہ جب میں گھر پہنچا تو وہاں میرے سب قریبی عزیز آئے ہوئے تھے اور اُن کا کہنا یہ تھا کہ مکان خریدنے کا حقدار سب سے پہلے اُن میں سے فلاں شخص ہے اور باقی سب اُس کی تائید کرتے ہیں۔ کہنے لگا کہ میں نے جب بتایا کہ میں تو ڈیل مکمل کر چکا ہوں تو میرے سبھی رشتہ دار ناراض ہو کر چل دئیے اور جاتے جاتے میرا مکمل بائیکاٹ کرنے کا کہہ گئے ہیں۔ وہ مزید کہنے لگا کاش آپ اُن ”لیگ پیسز اور نانوں“ کا چکّر نہ چلاتے تو میں گھر چلا جاتا اور مجھے یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ میں نے بھی اُس سے افسوس کیا لیکن اِدھر اپنے آپ کو بھی شاباش دی کہ کس کامیابی سے ڈیل کروائی ورنہ سب دوڑ دھوپ بیکار جاتی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں شرکت
نئے منصوبے کے تحت خریدار
ایک دن ایک رہائشی مکان کا خریدار آیا تو چونکہ میں نے ڈی ایچ اے لاہور میں شفٹ ہونے کا ارادہ کر لیا تھا لہٰذا اپنا گھر ہی اُن کو دکھا دیا۔ مکان اُن کو پسند آگیا۔ قیمت 5 لاکھ روپے بھی طے ہوگئی۔ لیکن وہ وہاں دیوار پر لگے ”ذوالفقار علی بھٹو“ کے ایک بڑے پورٹریٹ کو بھی ساتھ لینے پر اصرار کرنے لگے لیکن میں نہ مانا۔ لیکن اگلے روز مکان اُن کو دے دیا کہ چلو وہ بھی میری طرح بھٹو کے دیوانے ہیں۔ چند دن میں واپڈا کالونی کا ایک کنال کا پلاٹ 2 لاکھ 15 ہزار روپے اور 1 جوہر ٹاؤن میں 15 مرلے کا پلاٹ 1 لاکھ 75 ہزار روپے میں چلتا کیا۔ تو اِس طرح کل رقم 10 لاکھ روپے بنا لی۔ پھر ڈی ایچ اے لاہور میں 10 مرلے کا پلاٹ J-Block فیز 1 میں 5 لاکھ کا لے کر 6 ماہ میں باقی رقم سے خود وہاں نگرانی کر کے ڈبل سٹوری گھر بنا لیا۔
یہ بھی پڑھیں: چیچہ وطنی این اے 143، پی پی 203 میں پولنگ جاری، دلہا اپنی بارات میں جانے کے بجائے ووٹ کاسٹ کرنے پہنچ گیا
نئی شروعات
کچھ عرصہ مغل پورہ والے دفتر میں روزانہ آتا رہا لیکن پھر آخر کار دفتر بھی شفٹ کرنے کا پلان بنا لیا اور وہاں شالیمار مارکیٹ مین بلیوارڈ ڈی ایچ اے میں دکانیں خرید کر وہاں دفتر بنایا۔ لیکن پھر 1 سال کے اندر ہی وہ بیچ کر ”نیو جناح پلازہ“ نزد ڈیفنس موڑ میں 1 دکان لے کر دفتر بنا لیا اور اُس کے اوپر 2 منزلیں اور تعمیر کرلیں۔ اس طرح وہاں ”سٹیٹ ایجنسی“ پھر سرگرم ہوگئی۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔







