عباس عراقچی کا قطر کے وزیر اعظم کو فون
قطر اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ
دوحہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) قطر کے وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی سے ایران کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر عباس عراقچی کی جانب سے ٹیلیفونک رابطہ کیا گیا، جس میں خطے میں جاری کشیدگی اور اس کے ممکنہ اثرات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی صدر کے آئندہ ہفتے مذاکرات کے دعوے کی تردید کردی
خطے میں امن و استحکام کے خطرات
قطر کی وزارت خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے موجودہ صورتحال اور اس سے علاقائی امن و استحکام کو درپیش خطرات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر قطری وزیرِاعظم نے ایران کی جانب سے قطر اور دیگر علاقائی ممالک کو مسلسل نشانہ بنانے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے ممالک کو نشانہ بنانا جو جنگ سے خود کو الگ رکھے ہوئے ہیں، خطے کے امن سے کھیلنے کے مترادف ہے اور یہ عمل شدید غیر ذمہ داری کا مظہر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا واقعی شاہ رخ نے ہنی سنگھ کو تھپڑ مارا؟ بالآخر ریپر نے خاموشی توڑ دی
شہری تنصیبات کی حفاظت
شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شہری تنصیبات اور عوامی وسائل کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں اور اسے ہر حال میں مسترد کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں اور عام شہریوں کو تنازعات کے نقصانات سے محفوظ رکھیں۔
سفارتی حل کی اہمیت
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ بحران کا حل صرف اور صرف جامع اور پائیدار سفارتی راستے میں ہے، جو خطے میں دیرپا امن اور استحکام کو یقینی بنا سکتا ہے اور کشیدگی میں مزید اضافے کو روک سکتا ہے۔








