آئی ایم ایف نے چیئرمین نیب کی تقرری میں شفافیت یقینی بنانے کیلئے نئی شرط عائد کر دی
آئی ایم ایف کی نئی شرط
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایکسپریس ٹریبیون نے رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ آئی ایم ایف نے نیب کے چیئرمین کی تقرری میں شفافیت اور دیانت داری یقینی بنانے کے لیے ایک نئی شرط عائد کر دی ہے۔ اس شرط کے تحت چیئرمین کی تقرری ایک ایسے کمیشن کے ذریعے لازمی قرار دی گئی ہے جس میں اپوزیشن جماعتوں کی نمائندگی بھی شامل ہو۔
یہ بھی پڑھیں: نوید قمر پارلیمنٹرینز فار گلوبل ایکشن کے بلا مقابلہ صدر منتخب ہوگئے
نیب کی خودمختاری کے لیے اقدامات
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ نیب کی خودمختاری اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سینئر انتظامیہ کے انتخاب کا مضبوط طریقہ کار اپنایا جائے گا اور ادارے کے آپریٹنگ قواعد و شمار بھی شائع کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: اب برتھ اور ڈیتھ سرٹیفیکیٹ بالکل مفت بنوائیں، پنجاب حکومت نے بڑا قدم اٹھا لیا
آخری تاریخ اور آئینی تبدیلی
ذرائع کے مطابق اس کام کو مکمل کرنے کی آخری تاریخ اگلے سال جنوری مقرر کی گئی ہے، کیونکہ تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی کے لیے نیب آرڈیننس میں ترمیم بھی کرنا ہوگی۔
بدعنوانی کی روک تھام کے لیے اقدامات
قرض دہندہ ادارے نے یہ شرط انسدادِ بدعنوانی کے قانونی اور ریگولیٹری نظام کو مضبوط بنانے اور ملک میں کمزور گورننس کو بہتر بنانے کے لیے عائد کی ہے۔ حکومت نے حال ہی میں نیب قانون میں ترمیم کر کے موجودہ چیئرمین کی مدت میں توسیع کی اجازت دی تھی۔








