سعودی عرب پر حالیہ حملے مسلم امہ کو آپس میں دست و گریبان کرنے کا امریکی و اسرائیلی منصوبہ ہے، مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) امیرجے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہم نے روز اول سے امریکی پشت پناہی میں اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف جارحیت اور فلسطین سے آگے عرب دنیا اور ایران تک اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی بھرپور اور غیر مبہم مخالفت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ثنایوسف اور قاتل کا سوشل میڈیا ایپ پر رابطہ ہوا، پھر دوست بنے تو واٹس ایپ پر آگئے، ملزم نے ایک ہوٹل بک کروا رکھا تھا ” معروف صحافی نے اندر کی بات بتادی
ایران کے توسیع پسندانہ عزائم
مولانا نے کہا کہ خلیجی ریاستوں بالخصوص سعودی عرب پر حملوں کے نتیجے میں ایران کے بارے میں پیدا ہونے والا توسیع پسندانہ عزائم کا تاثر بھی مسلم دنیا اور بالخصوص پاکستان کے لیے ناقابل قبول ہے۔ ایران کو اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے چاہئیں کیونکہ پاکستان کی نظر میں یہ حملے غیر ضروری کشیدگی بڑھانے اور امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزیراعظم کے کفایت شعاری فنڈ کیلئے 100 ارب روپے کی منظوری دیدی
مسلم امہ کی آپس میں یکجہتی
مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب پر حالیہ حملے مسلم امہ کو آپس میں دست وگریبان کرنے کا امریکی و اسرائیلی منصوبہ ہیں۔ ہم بار بار اس کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ اسلامی ممالک کو آپس میں تحمل اور برداشت کے ساتھ اسرائیل کے خلاف یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: شاہین شاہ آفریدی نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں 100 میچز مکمل کر کے ایک اور قومی سنگ میل عبور کر لیا
اسلامی بلاک کی تشکیل
انہوں نے مزید کہا کہ اپنی آزادی و حریت اور خود مختاری کے اعلیٰ ترین قومی اور ملی مقاصد کے حصول کے لیے ایک اسلامی بلاک کی تشکیل کی طرف جانا ہوگا، جہاں اسلامی دنیا سیاسی، اقتصادی اور معاشی میدانوں میں ایک دوسرے کا سہارا بن سکے۔
سعودی عرب کے ساتھ تعزیت
ہم ان حملوں کو سعودی عرب کی خودمختاری اور سالمیت کی سنگین خلاف ورزی سمجھتے ہیں اور ان میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کرتے ہوئے سعودی قیادت و حکومت، عوام اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔








