جو ملک ایران کو فوجی ہتھیار فراہم کرے گا اس پر فوری طور پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا، جس کے بارے میں ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ وہاں ایک نہایت نتیجہ خیز رجیم چینج رونما ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جن ممالک میں جنگ جاری ہے وہاں بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اتنا زیادہ اضافہ نہیں ہوا، جتنا پاکستان میں کیا گیا، مولانا عبدالغفور حیدری
ایران کے ساتھ امریکہ کی حکمت عملی
سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یورینیم کی افزودگی نہیں ہوگی اور امریکہ ایران کے ساتھ مل کر زمین میں گہرائی میں دفن کیے گئے تمام جوہری ذرات بی-2 بمبار طیاروں کے ذریعے نکال کر ختم کرے گا۔ یہ سب کچھ اب بھی اور پہلے بھی انتہائی درست سیٹلائٹ نگرانی کے تحت ہے۔ حملے کی تاریخ کے بعد سے کسی چیز کو نہیں چھیڑا گیا ہے۔ ہم ایران کے ساتھ محصولات اور پابندیوں میں نرمی پر بات چیت کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ 15 نکات میں سے کئی پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے۔
فوجی ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندیاں
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ کوئی بھی ملک جو ایران کو فوجی ہتھیار فراہم کرے گا، اس پر فوری طور پر امریکہ کو فروخت کی جانے والی تمام اشیاء پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جس کا اطلاق فوراً ہوگا۔ اس میں کسی قسم کی کوئی رعایت یا استثنا شامل نہیں ہوگا۔
A Country supplying Military Weapons to Iran will be immediately tariffed, on any and all goods sold to the United States of America, 50%, effective immediately. There will be no exclusions or exemptions! President DJT
(TS: 08 Apr 07:30 ET)…
— Commentary: Trump Truth Social Posts On X (@TrumpTruthOnX) April 8, 2026








