نواز شریف کینسر ہسپتال منصوبے میں مبینہ تاخیر اور ناقص تعمیر کا انکشاف
نواز شریف کینسر ہسپتال کے منصوبے میں مسائل
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) دارالحکومت میں نواز شریف کینسر ہسپتال کے 74 ارب روپے کے میگا منصوبے میں نہ صرف تاخیر بلکہ مبینہ ناقص تعمیر، تکنیکی بے ضابطگیوں، کمزور مالیاتی کارکردگی اور انتظامی ناکامیوں کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی سندھ کی مظلوم بیٹی ام رباب چانڈیو سے ملاقات
سرکاری مانیٹرنگ رپورٹس کی تفصیلات
روزنامہ دنیا کے مطابق سرکاری مانیٹرنگ رپورٹس نے منصوبے کی کارکردگی کا پول کھول دیا اور پراجیکٹ پر سنگین سوالات اٹھا دئے ہیں۔ سرکاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ ناقص تعمیر، ڈیزائن کی سنگین غلطیاں، سریے کی غلط تنصیب اور دیگر تکنیکی خامیاں مریضوں کی جانوں کے لئے خطرہ ہیں۔ 15 ارب روپے جاری ہونے کے باوجود اربوں روپے استعمال نہ ہو سکے اور فنڈز لیپس ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: یہ ٹیکنیکل تفصیلات ہیں: لڑاکا طیاروں کے سوال پر بھارتی ڈی جی ملٹری آپریشنز پھر کنفیوژن میں پھنس گئے
مالیاتی کارکردگی کی زبوں حالی
رپورٹ کے مطابق منصوبے کی مالیاتی کارکردگی انتہائی کمزور رہی، 63 فیصد ہدف کے مقابلے میں صرف 31 فیصد فنڈز خرچ ہوئے، جبکہ فزیکل پیش رفت بھی سست رہی۔ دستاویزات کے مطابق مین ہسپتال بلڈنگ صرف 4.18 فیصد، بون میرو ٹرانسپلانٹ سینٹر 1.43 فیصد جبکہ بایومیڈیکل آلات کی تنصیب محض 2.52 فیصد مکمل ہو سکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گلوکارہ حمیرا ارشد کی پاکستان آئیڈل کے ججز پر شدید تنقید، کہا ججز بننے والوں کو شرم آنی چاہئے
تکنیکی خامیاں اور مستقبل کے خطرات
رپورٹ میں اشارہ دیا گیا کہ متعدد تکنیکی خامیاں، حفاظتی انتظامات کی کمی اور محکموں کے درمیان مؤثر رابطے کی عدم موجودگی منصوبے کی بروقت تکمیل میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ مانیٹرنگ ٹیم نے منصوبے کو "Need Consideration for Improvement" قرار دیتے ہوئے 58 کا مانیٹرنگ ریٹنگ انڈیکس دیا اور خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر اخراجات کی رفتار تیز نہ کی گئی، محکموں کے درمیان رابطہ بہتر نہ بنایا گیا اور آپریشنل تیاریوں کو مکمل نہ کیا گیا تو مئی 2027 کی ڈیڈ لائن بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔
ڈاکٹر فاروق منظور کی وضاحت
ڈی جی مانیٹرنگ اینڈ ایوالوایشن پنجاب ڈاکٹر فاروق منظور نے کہا کہ رپورٹ مرتب کر دی گئی ہے اور ٹیموں نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد بہت سے مسائل کو بروقت بہتر بنانے کی سفارشات پیش کی ہیں۔








