پاکستان کے ساتھ مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں: افغان وزیر خارجہ
افغانستان کے وزیر خارجہ کا بیان
کابل (بی این اے) افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں اور مذاکرات و باہمی مفاہمت کے ذریعے حل تلاش کرنے کی کوشش جاری ہے، جس میں مثبت پیش رفت کی امید بھی ظاہر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: ریسکیو 1122 کا اہلکار لوگوں کی جان بچاتے ہوئے شہید ہو گیا، 2 دن بعد باپ بننے والا تھا
مشاورتی اجلاس اور مذاکرات
انہوں نے یہ بات کابل میں افغانستان–وسطی ایشیاء مشاورتی اجلاس کے اختتام پر کہی اور چین کی میزبانی میں افغان اور پاکستانی وفود کے درمیان ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کو یورپ سے پاکستان واپس لاکر قانون کے مطابق کارروائی کا فیصلہ
مربوط ممالک کے صدور کا مؤقف
وزیر خارجہ نے بین الاقوامی اجلاسوں میں ازبکستان، قازقستان، کرغزستان، ترکمنستان اور تاجکستان کے صدور کی جانب سے ظاہر کیے گئے مثبت مؤقف اور حسنِ نیت کا خیرمقدم کیا۔
یہ بھی پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم پر چیف جسٹس سمیت تمام ججوں کے استعفے کی تجویز کو قبول نہیں کیا گیا
افغان قوم کی روایات
انہوں نے کہا کہ افغان قوم احسان فراموش نہیں بلکہ دوستی کی ایک مضبوط روایت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کراچی پہنچ گئے
افغانستان کے تعلقات کی توسیع
مولوی امیر خان متقی نے زور دیا کہ افغانستان وسطی ایشیا ءکے ممالک کے ساتھ دینی، مذہبی، لسانی، ثقافتی اور دیگر مشترکات کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے اور وسطی، جنوبی اور شمالی ایشیاء کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جب اسلام آباد تعمیر ہو چکا تو راولپنڈی کی حیثیت تھوڑی کم ہو گئی، تاہم آج بھی بڑا شہر ہے جہاں دور جدید کی سہولتوں کیساتھ قدیم محلے اور عمارتیں ہیں
امن کے لیے افغان حکومت کی کوششیں
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ افغان حکومت امن کو سبوتاژ کرنے والے عناصر کے خلاف فیصلہ کن، بنیادی اور ہمہ جہت جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے اور کوئی بھی فرد یا گروہ جو خطے کے امن کے لیے خطرہ ہو، قابل قبول نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کانپور کے لیے ٹرین پکڑنے کے لیے ہمارے پاس وقت بہت کم رہ گیا تھا، مولانا آزاد کے مزار پر کھڑے کھڑے جوہر برادرز کے لیے غائبانہ دعا کی۔
افغانستان کی خود مختاری
وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ افغانستان اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے مخالف عناصر کے استعمال کے لیے ہرگز اجازت نہیں دے گا۔ افغانستان اس وقت خطے کے لیے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ دوطرفہ تعاون کے تناظر میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار ہے۔
امارت اسلامیہ کی کاوشیں
آخر میں انہوں نے کہا کہ امارت اسلامیہ اسی پالیسی کے تحت علاقائی اور عالمی فورمز میں فعال شرکت اور مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔








