پاکستان کے ساتھ مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں: افغان وزیر خارجہ
افغانستان کے وزیر خارجہ کا بیان
کابل (بی این اے) افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں اور مذاکرات و باہمی مفاہمت کے ذریعے حل تلاش کرنے کی کوشش جاری ہے، جس میں مثبت پیش رفت کی امید بھی ظاہر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ٹک ٹاکر کو ریل بنانے کیلئے بائیک اسٹنٹ اور چلتی بسوں کے دروازے کھولنا مہنگا پڑ گیا، ویڈیو وائرل
مشاورتی اجلاس اور مذاکرات
انہوں نے یہ بات کابل میں افغانستان–وسطی ایشیاء مشاورتی اجلاس کے اختتام پر کہی اور چین کی میزبانی میں افغان اور پاکستانی وفود کے درمیان ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: چینی کی قیمت میں مزید اضافہ
مربوط ممالک کے صدور کا مؤقف
وزیر خارجہ نے بین الاقوامی اجلاسوں میں ازبکستان، قازقستان، کرغزستان، ترکمنستان اور تاجکستان کے صدور کی جانب سے ظاہر کیے گئے مثبت مؤقف اور حسنِ نیت کا خیرمقدم کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا 175سے ہٹ کر بھی سویلینز کےملٹری ٹرائل کی اجازت ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل کا خواجہ حارث سے استفسار
افغان قوم کی روایات
انہوں نے کہا کہ افغان قوم احسان فراموش نہیں بلکہ دوستی کی ایک مضبوط روایت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بحریہ کے بیڑے میں چوتھے آف شور پیٹرول ویسل پی این ایس یمامہ کی شمولیت
افغانستان کے تعلقات کی توسیع
مولوی امیر خان متقی نے زور دیا کہ افغانستان وسطی ایشیا ءکے ممالک کے ساتھ دینی، مذہبی، لسانی، ثقافتی اور دیگر مشترکات کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے اور وسطی، جنوبی اور شمالی ایشیاء کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب بھر میں بارش برسانے والا نیا موسمی سسٹم آج رات پاکستان میں داخل ہو جائے گا :محکمہ موسمیات
امن کے لیے افغان حکومت کی کوششیں
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ افغان حکومت امن کو سبوتاژ کرنے والے عناصر کے خلاف فیصلہ کن، بنیادی اور ہمہ جہت جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے اور کوئی بھی فرد یا گروہ جو خطے کے امن کے لیے خطرہ ہو، قابل قبول نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چھٹیاں ختم/ پنجاب میں تعلیمی ادارے کھل گئے
افغانستان کی خود مختاری
وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ افغانستان اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے مخالف عناصر کے استعمال کے لیے ہرگز اجازت نہیں دے گا۔ افغانستان اس وقت خطے کے لیے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ دوطرفہ تعاون کے تناظر میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار ہے۔
امارت اسلامیہ کی کاوشیں
آخر میں انہوں نے کہا کہ امارت اسلامیہ اسی پالیسی کے تحت علاقائی اور عالمی فورمز میں فعال شرکت اور مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔








