پاکستان کے ساتھ مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں: افغان وزیر خارجہ
افغانستان کے وزیر خارجہ کا بیان
کابل (بی این اے) افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں اور مذاکرات و باہمی مفاہمت کے ذریعے حل تلاش کرنے کی کوشش جاری ہے، جس میں مثبت پیش رفت کی امید بھی ظاہر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سنجے منجریکر نے کن پاکستانی کھلاڑیوں کو بھارت کیلیے خطرہ قرار دے دیا؟
مشاورتی اجلاس اور مذاکرات
انہوں نے یہ بات کابل میں افغانستان–وسطی ایشیاء مشاورتی اجلاس کے اختتام پر کہی اور چین کی میزبانی میں افغان اور پاکستانی وفود کے درمیان ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا چین کو 220 ارب روپے سود کی ادائیگی سے انکار
مربوط ممالک کے صدور کا مؤقف
وزیر خارجہ نے بین الاقوامی اجلاسوں میں ازبکستان، قازقستان، کرغزستان، ترکمنستان اور تاجکستان کے صدور کی جانب سے ظاہر کیے گئے مثبت مؤقف اور حسنِ نیت کا خیرمقدم کیا۔
یہ بھی پڑھیں: صائم ایوب نے جنوبی افریقہ کیخلاف سنچری بنانے کے بعد بڑا اعلان کر دیا
افغان قوم کی روایات
انہوں نے کہا کہ افغان قوم احسان فراموش نہیں بلکہ دوستی کی ایک مضبوط روایت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عافیہ صدیقی کیس: آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کو وزیرِاعظم اور وفاقی وزرا کیخلاف کارروائی سے روک دیا
افغانستان کے تعلقات کی توسیع
مولوی امیر خان متقی نے زور دیا کہ افغانستان وسطی ایشیا ءکے ممالک کے ساتھ دینی، مذہبی، لسانی، ثقافتی اور دیگر مشترکات کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے اور وسطی، جنوبی اور شمالی ایشیاء کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اٹلی میں انوکھی واردات، چور چاکلیٹ سے بھرا ٹرک لے گئے، ’’ہم مجرموں کے ذوق کی تعریف کرتے ہیں‘‘: کمپنی
امن کے لیے افغان حکومت کی کوششیں
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ افغان حکومت امن کو سبوتاژ کرنے والے عناصر کے خلاف فیصلہ کن، بنیادی اور ہمہ جہت جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے اور کوئی بھی فرد یا گروہ جو خطے کے امن کے لیے خطرہ ہو، قابل قبول نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کے اثاثے ہزاروں ارب روپے کے ہیں جن کو اونے پونے داموں بیچا گیا، چوہدری منظور
افغانستان کی خود مختاری
وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ افغانستان اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے مخالف عناصر کے استعمال کے لیے ہرگز اجازت نہیں دے گا۔ افغانستان اس وقت خطے کے لیے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ دوطرفہ تعاون کے تناظر میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار ہے۔
امارت اسلامیہ کی کاوشیں
آخر میں انہوں نے کہا کہ امارت اسلامیہ اسی پالیسی کے تحت علاقائی اور عالمی فورمز میں فعال شرکت اور مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔








