پاکستان کے ساتھ مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں: افغان وزیر خارجہ
افغانستان کے وزیر خارجہ کا بیان
کابل (بی این اے) افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں اور مذاکرات و باہمی مفاہمت کے ذریعے حل تلاش کرنے کی کوشش جاری ہے، جس میں مثبت پیش رفت کی امید بھی ظاہر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا فلسطینیوں کے قتل میں برابر کا شریک ہے: حافظ نعیم الرحمان
مشاورتی اجلاس اور مذاکرات
انہوں نے یہ بات کابل میں افغانستان–وسطی ایشیاء مشاورتی اجلاس کے اختتام پر کہی اور چین کی میزبانی میں افغان اور پاکستانی وفود کے درمیان ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: صومالی قذاقوں سے خوفزدہ پاکستانی اور ایرانی مچھیرے: “یہ اپنی موت کی طرف خود بڑھنے جیسا ہے”
مربوط ممالک کے صدور کا مؤقف
وزیر خارجہ نے بین الاقوامی اجلاسوں میں ازبکستان، قازقستان، کرغزستان، ترکمنستان اور تاجکستان کے صدور کی جانب سے ظاہر کیے گئے مثبت مؤقف اور حسنِ نیت کا خیرمقدم کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سی آئی اے کا ایران میں اندرونی بغاوت کو ہوا دینے کے لیے مسلح کرد جنگجوؤں کو تیار کرنے کا منصوبہ
افغان قوم کی روایات
انہوں نے کہا کہ افغان قوم احسان فراموش نہیں بلکہ دوستی کی ایک مضبوط روایت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طیفی بٹ کے شناختی کوائف میں بڑے پیمانے پر جعلسازی کا انکشاف
افغانستان کے تعلقات کی توسیع
مولوی امیر خان متقی نے زور دیا کہ افغانستان وسطی ایشیا ءکے ممالک کے ساتھ دینی، مذہبی، لسانی، ثقافتی اور دیگر مشترکات کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے اور وسطی، جنوبی اور شمالی ایشیاء کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی کرکٹ ٹیم کے بعد حکومت نے بھی عوام کو جھٹکا دے دیا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ
امن کے لیے افغان حکومت کی کوششیں
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ افغان حکومت امن کو سبوتاژ کرنے والے عناصر کے خلاف فیصلہ کن، بنیادی اور ہمہ جہت جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے اور کوئی بھی فرد یا گروہ جو خطے کے امن کے لیے خطرہ ہو، قابل قبول نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم شہباز شریف کا ملائیشین ہم منصب سے رابطہ، پہلگام واقعہ کی تحقیقات میں ملائیشیا کی شرکت کا خیر مقدم
افغانستان کی خود مختاری
وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ افغانستان اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے مخالف عناصر کے استعمال کے لیے ہرگز اجازت نہیں دے گا۔ افغانستان اس وقت خطے کے لیے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ دوطرفہ تعاون کے تناظر میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار ہے۔
امارت اسلامیہ کی کاوشیں
آخر میں انہوں نے کہا کہ امارت اسلامیہ اسی پالیسی کے تحت علاقائی اور عالمی فورمز میں فعال شرکت اور مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔








