خوش قسمت ہیں کہ اللہ نے اپنے بندوں کی خدمت کا موقع دیا، اب ہمارا فرض ہے کہ اللہ کے بندوں کی خدمت کریں، مشکل وقت میں صبر کریں
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 492
تربیت کے آخری روز
ان ٹرینی افسران کے نمائندہ فاروق کھارا نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا؛ “سیکرٹری بلدیات اور فیکلٹی ممبران کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ ہم نے یہاں پر یادگار وقت گزارا۔ تربیت ہمارے لیے وہ بنیاد مہیا کر گئی جس پر مضبوط عمارت کی رکھنی آسان ہو گی۔ ہمیں نہ صرف ہماری ذمہ داریوں سے آگاہ کیا گیا بلکہ سینئرز نے ہمیں اپنے تجربات سے بھی بہت کچھ سکھایا ہے۔ بہترین ماحول میں علم کے خزانوں سے بہت کچھ بانٹا گیا۔ ہم شاندار یادیں لئے اس عزم سے یہاں سے رخصت ہو رہے ہیں کہ حاصل کی گئی تربیت کو اپنی بہترین صلاحیتوں سے محکمہ کی نیک نامی کے لئے استعمال کرکے شاندار روایات کے امین ثابت ہوں گے۔"
سیکرٹری بلدیات کا خطاب
سیکرٹری بلدیات نے اپنے خطاب میں کہا؛ "مجھے اکیڈمی آکر بہت خوشی ہوئی ہے۔ مجھے اس بات کا بھی احساس ہوا ہے کہ یہ جگہ دنیا کی کسی بھی بہترین اکیڈمیوں سے اپنے محل و وقوع کے اعتبار سے کم نہیں ہے۔ مجھے یہ جان کر بھی خوشی ہوئی ہے کہ اکیڈمی کے شاندار ماحول میں آپ کو آنے والے نئے چیلنجز سے ہم آہنگ ہونے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ یقیناً آپ نے یہاں مصروف اور عملی وقت گزارا ہو گا۔ مجھے امید ہے ڈائریکٹر اکیڈمی اور ان کے ساتھیوں نے آپ کی خوب میزبانی کے ساتھ ساتھ بہترین تربیت بھی کی ہوگی۔ محکمہ نے اپنی پہلی ذمہ داری آپ کی تربیت کرکے پوری کر دی ہے اب آپ کا فرض ہے کہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے فرائض منصبی اپنی صلاحیتوں کے مطابق ذمہ داری سے ادا کریں۔ ہم سب سرکاری ملازم خوش قسمت ہیں کہ اللہ نے ہمیں اپنے بندوں کی خدمت کا موقع دیا ہے۔ اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اللہ کے بندوں کی خدمت کرکے جنت حاصل کرنے کے اس نادر موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ مشکل وقت میں صبر کریں اور اچھے وقت میں اللہ کا شکر ادا کریں۔ میں ڈائریکٹر اکیڈمی کا خاص طور پر اور ان کی فیکلٹی کا عام طور پر ممنون ہوں کہ انہوں نے ذاتی دلچسپی سے نہ صرف آپ کی مہارت میں اضافہ کیا بلکہ آپ کے کردار کو بھی پختگی میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔"
تنگ مزاج راجہ
ان چھ ہفتوں میں ان نوجوان پڑھے لکھے افسران کے درمیان وقت گزار کر ہم خود کو بھی جوان محسوس کرنے لگے تھے۔ بڑے عرصے کے بعد اکیڈمی میں دسمبر 15 سے اپریل 16 تک مصروف وقت تھا۔ پہلے گلگت بلتستان کے افسران ہمارے مہمان تھے اور پھر محکمہ بلدیات پنجاب کے۔ اب اگلے مہمان سولہ (16) اسسٹنٹ انجینئرز تھے جنہوں نے چند ہفتے پہلے ہی محکمہ کو جوائن کیا تھا۔ ان کے لئے 90 فی صد visiting faculty کی ضرورت تھی جس کا انتظام کر لیا گیا تھا۔ محکمہ بلدیات میں ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر راجہ نصر شاہد کا تقرر ہوا تھا۔ یہ ساری عمر سیکرٹریٹ سروس میں رہے تھے، فیلڈ پوسٹنگ کا کوئی تجربہ نہ تھا۔ خشک مزاج، تنگ نظر اور منفی سوچ والے انسان تھے۔
لک کی بیڈ لک
چند دنوں بعد کیپٹن (آر) نسیم نواز کا تقرر بطور سیکرٹری بلدیات ہو گیا۔ یہ پروقار شخصیت، نفیس اور شاندار انسان تھے۔ یہاں آنے سے پہلے کمشنر فیصل آباد رہے۔ بڑے نیک نام افسر تھے۔ انہوں نے اسسٹنٹ انجینئرز کی تربیت کی منظوری دی۔ منظوری کے چند دن بعد مجھے نجیب اسلم ڈپٹی سیکرٹری (کوارڈ) نے پیغام دیا کہ "ایڈیشنل سیکرٹری (ایڈمن) مہر محمد حیات لک ٹریننگ کے بجٹ سے اپنا حصہ مانگ رہا ہے۔" نجیب کی بات سن کر میں اس سے ناراض ہوا اور کہا؛ "تمہیں یہ پیغام مجھے دینا ہی نہیں چاہیے تھا۔ تم لک سے کہہ دیتے کہ میں اپنے سینیئر سے ایسی بات نہیں کہہ سکتا۔" (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








