پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی سے کاروبار کے آغاز کے بعد تیزی کا رجحان
بازار حصص میں کاروباری دن کا آغاز
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) بازار حصص میں آج کاروبار کا آغاز مندی کے ساتھ ہوا، تاہم اس کے بعد مارکیٹ میں تیزی کا رجحان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فی تولہ سونے کی قیمت 4لاکھ26ہزار 562 روپے پر برقرار
پاکستان سٹاک ایکسچینج کی صورتحال
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان سٹاک ایکسچینج میں آج جمعرات کے روز 3400 پوائنٹس کی بڑی مندی کے ساتھ کاروبار شروع ہوا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس گھٹ کر ایک لاکھ 62 ہزار 411 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: خواب اور حقیقت: قیمتی سامان کی واپسی کا انوکھا قصہ
انڈیکس میں تبدیلی
بعد ازاں مندی میں نسبتاً کمی کے بعد انڈیکس 1410 پوائنٹس کی مندی کے ساتھ ایک لاکھ 64 ہزار 399 پوائنٹس کی سطح کو پہنچا اور کچھ وقفے کے بعد مارکیٹ میں تیزی دیکھنے میں آئی۔ مجموعی طور پر 102 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 65 ہزار 913 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں رشتے کے تنازع پر ایک شخص قتل، ملزم گرفتار
عالمی مارکیٹ پر اثرات
واضح رہے کہ پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کے نتیجے میں ایران امریکا جنگ بندی کے معاشی اثرات عالمی مارکیٹ پر دیکھے جا رہے ہیں۔ اسی تسلسل میں پاکستان سٹاک ایکسچینج میں گزشتہ روز 12920 پوائنٹس کی بڑی نوعیت کی تیزی ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس ایک لاکھ 64 ہزار 594 پوائنٹس کی سطح پر آگیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں پوسٹ آفس کی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل بے نقاب
کاروباری سرگرمیاں بحال
پی ایس ایکس انتظامیہ کے مطابق گزشتہ روز بڑی نوعیت کی تیزی کے باعث کاروباری سرگرمیوں کو ایک گھنٹے کے لیے معطل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں پاکستان سٹاک ایکس چینج میں کاروباری سرگرمیاں بحال کی گئیں اور مارکیٹ میں ریکارڈ تیزی کا رجحان دن بھر برقرار رہا۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعہ) کا دن کیسا رہے گا ؟
امریکا اور ایران کی جنگ بندی
امریکا اور ایران کے درمیان 2 ہفتوں کی مشروط جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں بڑا ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی جبکہ سٹاک مارکیٹس میں زبردست تیزی دیکھی گئی۔
ماہرین کی رائے
تاہم ماہرین کے مطابق قیمتیں اب بھی اس سطح سے زیادہ ہیں جہاں تنازع شروع ہونے سے قبل 28 فروری کو تیل تقریباً 70 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔ جنگ بندی کے بعد ایشیا پیسیفک خطے کی سٹاک مارکیٹس میں بھی زبردست تیزی دیکھی جا رہی ہے。








