پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی سے کاروبار کے آغاز کے بعد تیزی کا رجحان
بازار حصص میں کاروباری دن کا آغاز
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) بازار حصص میں آج کاروبار کا آغاز مندی کے ساتھ ہوا، تاہم اس کے بعد مارکیٹ میں تیزی کا رجحان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی وفد کا آج سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ملاقات کا فیصلہ
پاکستان سٹاک ایکسچینج کی صورتحال
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان سٹاک ایکسچینج میں آج جمعرات کے روز 3400 پوائنٹس کی بڑی مندی کے ساتھ کاروبار شروع ہوا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس گھٹ کر ایک لاکھ 62 ہزار 411 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی جانب سے امریکی تجاویز مسترد کیے جانے پر مصر کا ردعمل آ گیا
انڈیکس میں تبدیلی
بعد ازاں مندی میں نسبتاً کمی کے بعد انڈیکس 1410 پوائنٹس کی مندی کے ساتھ ایک لاکھ 64 ہزار 399 پوائنٹس کی سطح کو پہنچا اور کچھ وقفے کے بعد مارکیٹ میں تیزی دیکھنے میں آئی۔ مجموعی طور پر 102 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 65 ہزار 913 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی فٹبال ٹیم ورلڈکپ کے اپنے گروپ میچز شیڈول کے مطابق امریکہ میں کھیلے گی، فیفا کے صدر کا ایرانی ٹیم سے ملاقات کے بعد اعلان
عالمی مارکیٹ پر اثرات
واضح رہے کہ پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کے نتیجے میں ایران امریکا جنگ بندی کے معاشی اثرات عالمی مارکیٹ پر دیکھے جا رہے ہیں۔ اسی تسلسل میں پاکستان سٹاک ایکسچینج میں گزشتہ روز 12920 پوائنٹس کی بڑی نوعیت کی تیزی ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس ایک لاکھ 64 ہزار 594 پوائنٹس کی سطح پر آگیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل آبادیوں کے لیے خوشخبری، چاولہ مین سٹور نے اپنے ریٹیل سٹور کا افتتاح کر دیا
کاروباری سرگرمیاں بحال
پی ایس ایکس انتظامیہ کے مطابق گزشتہ روز بڑی نوعیت کی تیزی کے باعث کاروباری سرگرمیوں کو ایک گھنٹے کے لیے معطل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں پاکستان سٹاک ایکس چینج میں کاروباری سرگرمیاں بحال کی گئیں اور مارکیٹ میں ریکارڈ تیزی کا رجحان دن بھر برقرار رہا۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوبر رجب بٹ نے شادی ختم کرنے کا اعلان کر دیا
امریکا اور ایران کی جنگ بندی
امریکا اور ایران کے درمیان 2 ہفتوں کی مشروط جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں بڑا ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی جبکہ سٹاک مارکیٹس میں زبردست تیزی دیکھی گئی۔
ماہرین کی رائے
تاہم ماہرین کے مطابق قیمتیں اب بھی اس سطح سے زیادہ ہیں جہاں تنازع شروع ہونے سے قبل 28 فروری کو تیل تقریباً 70 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔ جنگ بندی کے بعد ایشیا پیسیفک خطے کی سٹاک مارکیٹس میں بھی زبردست تیزی دیکھی جا رہی ہے。








