پی ٹی آئی نے حکومت کو ریلیف دلوانے کیلئے جلسہ منسوخ کرایا، نورین خان
عمران خان کی ہمشیرہ کا بیان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ نورین خان نے کہا ہے کہ کل کا جلسہ پی ٹی آئی نے عمران خان سے کینسل کروایا تاکہ حکومت کو ریلیف دیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا آنکھ کے علاج کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع
حکومت کی جانب سے ریلیف کی کمی
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں نورین خان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھی کئی مواقع پر حکومت کو ریلیف دیا گیا، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کے بدلے عمران خان کی صحت کے حوالے سے کوئی بھی ریلیف حاصل نہیں کیا گیا۔ نہ ہی فیملی ملاقاتوں کے لیے کوئی مؤثر آواز اٹھائی گئی اور نہ ہی ان کی غیرقانونی قیدِ تنہائی کے خاتمے کے لیے کوئی سنجیدہ اقدام کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے نے سی ڈی اے کے 28 ملازمین کو جعلی اور بوگس تعلیمی اسناد کی بنیاد پر سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا
عمران خان کی صحت کا مسئلہ
بانی کی ہمشیرہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کو جیل مینول کے مطابق بنیادی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جا رہیں۔ فیملی کا واحد اور واضح مطالبہ یہی ہے کہ عمران خان کا علاج فوری طور پر شفاء انٹرنیشنل اسلام آباد میں ان کی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں کروایا جائے۔ ان کی آنکھ کی حالت تشویشناک ہے، نہ صرف یہ کہ اس میں کوئی بہتری نہیں آئی بلکہ خدشہ ہے کہ اسے جان بوجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس سے ان کی بینائی مزید متاثر ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میڈیا پرسنز کی توسط سے لاہور میں ’’فحش اور ڈانس پارٹیاں‘‘ہو رہی ہیں، ریڈیو میزبان و سوشل میڈیا انفلوئنسر محسن نوازکا دعویٰ۔
خاندان کا مطالبہ اور خدشات
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت کو نظر انداز کرنا یا اس پر خاموشی اختیار کرنا ایک مجرمانہ فعل ہے۔ جب تک فیملی کی ملاقات نہیں ہوتی، ہم تسلی سے کوئی بھی بات نہیں کر سکتے اور نہ ہی کسی سرکاری مؤقف پر کسی قسم کا یقین کیا جا سکتا ہے۔
ٹویٹر پر بیان
کل کا جلسہ پی ٹی آئی نے عمران خان سے کینسل کروایا تاکہ حکومت کو ریلیف دیا جا سکے۔ اس سے پہلے بھی کئی مواقع پر حکومت کو ریلیف دیا گیا، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کے بدلے عمران خان کی صحت کے حوالے سے کوئی بھی ریلیف حاصل نہیں کیا گیا۔ نہ ہی فیملی ملاقاتوں کے لیے کوئی مؤثر آواز… https://t.co/AAZFktJxkH
— Noreen Niazi (@Noreen_KhanPK) April 8, 2026








