تہذیب کے بجھتے ہوئے چراغ
تحریر: رضوان احمد
تاریخی منظرنامہ
تاریخ کے اوراق پر ایک واقعہ بہت نمایاں ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے عہد میں جب کسی استاد نے ایک چھوٹے طالب علم کو ایک تھپڑ مارا، تو خلیفہ وقت نے استاد کو بلایا اور فرمایا: "یہ جو تم نے اس کے دل میں خوف کا بیج بویا ہے، کل یہ حاکم بنے گا تو رعایا پر ظلم کرے گا۔" یہ واقعہ صرف جسمانی سزا کا نہیں، تربیت، رویے اور طلباء کی نفسیات کا آئینہ دار ہے۔
تعلیمی نظام کا تنازعہ
آج جب ہم اپنے تعلیمی اداروں اور جامعات کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک سوال دل و دماغ کو جھنجھوڑ دیتا ہے. کیا ہم علم سکھا رہے ہیں یا صرف امتحان پاس کرانے کی مشینیں چلا رہے ہیں؟ اور اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ آج کے طالب علم کا رویہ، طرزِ فکر، اور اندازِ عمل کیسا ہے؟ بدقسمتی سے موجودہ نسل کے بہت سے طلباء کے رویوں میں وہ سنجیدگی، وہ شائستگی، وہ ادب اور وہ جذبۂ علم نظر نہیں آتا جو کسی طالب علم کا زیور ہونا چاہیے۔
استاد اور شاگرد کا رشتہ
جب کبھی درسگاہوں کی فضا میں استاد کی ایک نگاہ کافی ہوتی تھی کہ شاگرد ادب سے لرز اٹھتا، آج کے درسگاہوں میں استاد کی آواز بھی کئی کانوں سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہے۔ یہ تغیر صرف وقت کا نہیں، تربیت، تہذیب اور رویے کا بھی ہے۔ آج کے طالب علم کے ہاتھ میں کتاب تو ہے، مگر دل میں وقار کی چمک کم ہوتی جا رہی ہے۔
تعلیمی زوال
اساتذہ کی عزت، جو کبھی آنکھوں سے جھکتی تھی، اب صرف مارک شیٹ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ بچے سوال اٹھاتے ہیں لیکن سیکھنے کے لئے نہیں، بحث جیتنے کے لئے۔ ان کا وقت سوشل میڈیا اور ویڈیوز کے پیچھے صرف ہوتا ہے، اور اصل علم، کردار سازی، شعور اور انسانیت سب پیچھے رہ جاتے ہیں۔
تبدیلی کا وقت
اب اگر ہمیں نئی نسل کو بچانا ہے، تو ہمیں ان کے رویے کو سنوارنے کا عمل شروع کرنا ہوگا، ورنہ علم کا درخت سایہ نہ دے گا، صرف کانٹے اُگائے گا۔ ایک زمانہ تھا جب استاد کی آمد پر طلباء کھڑے ہو جاتے تھے، اور آج وہ وقت ہے جب استاد کو طلباء کے رویے پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔
مستقبل کی تعمیر
ہمیں طلباء کو صرف ہنر مند نہیں، باکردار انسان بنانا ہے۔ ان کے رویے میں عاجزی، سچائی، ادب، دیانت، اور فہم و فراست پیدا کرنا ہے۔ جس دن ہمارے تعلیمی اداروں سے صرف ڈگری یافتہ افراد نہیں بلکہ کردار یافتہ انسان نکلنا شروع ہو جائیں گے، اُس دن پاکستان ایک سچی علمی اور اخلاقی قوت بن جائے گا۔
خلاصہ
طلباء کا رویہ صرف ان کا ذاتی معاملہ نہیں، یہ قوم کی آئندہ شکل کا ابتدائی خاکہ ہوتا ہے۔ اگر آج کا طالب علم سنور گیا، تو کل کا پاکستان عدل، امن اور علم کا گہوارہ بنے گا۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم نئی نسل کو صرف علم کی ترسیل نہ کریں، بلکہ سیکھنے کا سلیقہ بھی سکھائیں۔ کیونکہ جہاں طالب علم کا رویہ خاموش ہو، وہاں علم خود بولتا ہے۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔








