والد نے مجھے گاؤں کی زرعی زمین پر لے جا کر چند فصلوں کی پہچان کروائی، ہر ماہ مدرسے کے طالبعلموں کو کھانا کھلاتے، مسجد میں زکوٰۃ و صدقات باقاعدگی سے بھیجتے ہیں۔
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 361
میرے والد کا تعارف
میرے والد رانا بشیر احمد خاں کی پیدائش 1917ء میں انڈیا انبالہ کے موضع دھین میں ہوئی۔ انبالہ ہمارے گاؤں سے 16 میل یعنی 25 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ میٹرک فرسٹ ڈویژن میں پاس کرنے کے بعد میرے دادا نے انہیں سنٹرل کوآپریٹو بینک انبالہ شہر میں کلرک بھرتی کروا دیا۔ آہستہ آہستہ بینک میں بطور کیشئر، اکاؤنٹنٹ کام کرتے ہوئے وہ 1945ء میں 28 سال کی عمر میں تحصیل لیول نرائن گڑھ اور جگادری کوآپریٹو بینک میں پروموٹ ہو کر بطور بینک مینجر کام کرتے رہے۔
آخری ہفتے کی چھٹی
اتوار کی چھٹی گزارنے کے لئے ہفتہ کی شام وہ اپنے گاؤں آتے، گھر میں ہر کسی کو ان کا انتظار ہوتا تھا۔ ہوش سنبھالنے پر مجھے یاد ہے کہ ان کے لائے ہوئے کیلے ایک اتوار کے دن میں نے کھائے، ان کا لذیذ فرحت بخش ذائقہ مجھے آج بھی یاد ہے۔
زرعی تعلیم
والد محترم ایک اتوار کے دن مجھے اپنے ساتھ گاؤں ہماری زرعی زمین پر لے گئے اور مجھے چند فصلوں کی پہچان کروائی کہ یہ چاول / مونجی کی فصل ہے۔ یہ گاجر، مولی، لہسن، پیاز صرف گھر میں استعمال کے لئے بوئے گئے ہیں۔ اس کنویں کے رہٹ سے کھیتوں کو پانی دیا جاتا ہے۔
بینک کی خدمات
مہاجرین کے بھارت سے پاکستان آنے کے بعد، میرے والد جڑانوالہ سنٹرل کوآپریٹو بینک میں زندگی بھر 60 سال کی عمر تک ملازمت کرتے رہے۔ ایک دیوالیہ پن کے قریب بینک کو اپنی محنت، دیانت، مہارت سے ایک منافع بخش بینک بنا دیا۔ وہ اکثر رات کے ٹائم بھی دو تین گھنٹے بینک میں جا کر کام کرتے تھے۔
دینی خدمات
انہوں نے پانچ وقت شہر کی جامع مسجد جا کر نماز پنجگانہ کی ادائیگی کی۔ ان کی طبیعت میں ایثار، فیاضی، ہمدردی، دیانتداری اور مہمان نوازی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ بینک میں مہمانوں کے لئے آئے روز کسی نہ کسی کے لیے کھانا، چائے وغیرہ گھر سے منگوایا جاتا تھا۔
تعلیمی دور
مارچ 1948ء سے جولائی 1958ء تک قریباً 10 سال میری سکولنگ کا دور جڑانوالہ شہر میں بسر ہوا۔ اس دوران 3 کمروں پر مشتمل گراؤنڈ فلور مہمان خانہ بنا رہا۔ میرے ایک پھوپھا عبدالعزیز خاں اور دور کے ایک عزیز رانا شفیع خاں کو گاؤں سرگودھا سے بلوا کر کاٹن مل میں ملازم کروایا۔
مہمان نوازیاں
جن کا بالترتیب 3 سال اور بعد میں ایک سال ہمارے گھر میں قیام و طعام رہا۔ انڈیا انبالہ سے مہاجر بن کر آئے ملازم احباب ٹرانسفر ہو کر جڑانوالہ آئے۔ ایک نائب تحصیلدار راؤ جمشیدار علی خاں، ایک ایڈیشنل تحصیلدار، ایک انسپکٹر کوآپریٹو سوسائٹیز جن کے نام میں بھول رہا ہوں، مختلف اوقات میں ایک ایک سال اور دو دو سال بطور مہمان ہمارے گھر مقیم رہے۔
اجتماعی دعوتیں
ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو جامع مسجد مدرسہ کے پندرہ بیس طالبعلموں کی دعوت کھانے کا اہتمام بھی ہمارے گھر باقاعدگی سے ہوتا تھا۔ جس میں جامع مسجد کے قاری حافظ صاحبان، بینک کے چھوٹے ملازم، چوکیدار، چپڑاسی وغیرہ بھی ہمیشہ شامل ہوتے تھے۔
عطیات کا کام
جامع مسجد میں زکوٰۃ صدقات وغیرہ بھی ہر ماہ باقاعدگی سے بھیجواتے تھے۔ مولانا احمد علی لاهوری شیرانوالہ گیٹ اور جامعہ اشرفیہ لاہور کو بھی عطیات بذریعہ منی آرڈر بھیجتے تھے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








