اگر امریکہ نیتن یاہو کو سفارت کاری ختم کرنے کی اجازت دیتا ہے تو ہم اس کے لیے تیار ہیں، عباس عراقچی
ایران کی موقف: نیتن یاہو کی سفارتکاری کا خاتمہ
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نیتن یاہو کو سفارتکاری ختم کرنے کی اجازت دے کر اپنی معیشت کو تباہ کرنا چاہتا ہے، تو یہ ایک بیوقوفانہ اقدام ہوگا، لیکن ہم اس کے لیے تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چولستان جیپ ریلی خطے کے لیے اہم، ثقافتی رونقیں بحال ہوگئیں: سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب
نیتن یاہو کے خلاف مقدمہ
اپنے ایک ٹویٹ میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ نیتن یاہو کے خلاف مجرمانہ مقدمے کی سماعت اتوار کو دوبارہ شروع ہو رہی ہے۔ لبنان سمیت پورے خطے میں جنگ بندی، انہیں جیل بھیجنے کے عمل کو تیز کر دے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکہ نیتن یاہو کو سفارتکاری ختم کرنے کی اجازت دے کر اپنی معیشت کو تباہ کرنا چاہتا ہے، تو یہ بالآخر اس کا اپنا انتخاب ہوگا۔ ہمارے خیال میں یہ ایک بیوقوفانہ اقدام ہوگا، لیکن ہم اس کے لیے تیار ہیں۔
نیا قانونی چیلنج
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کیس کی سماعت اتوار کو دوبارہ شروع ہوگی۔ ایران جنگ بندی کے بعد اسرائیل میں ایمرجنسی ختم کرنے پر اسرائیلی عدالت نے اعلان کیا ہے کہ اب سماعتیں حسبِ معمول دوبارہ شروع ہوں گی۔ ان کے خلاف 2019 میں رشوت ستانی، دھوکہ دہی کے الزامات پر مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔








