ہماری ترجیح انعام نہیں، خطے میں پائیدار امن کا قیام ہے، نوبل امن انعام کی نامزدگی کے سوال پر بلاول کا جواب
بلاول بھٹو زرداری کا بیان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کے پاس "پلان بی" کی گنجائش نہیں، ہمیں ہر صورت "پلان اے" یعنی امن کو ہی کامیاب بنانا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دینا ایک سوچی سمجھی چال ہے،ایمل ولی خان
جنگ بندی پر اتفاق
بلاول بھٹو زرداری نے برطانوی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کے نتائج پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں، ایک ماہ کی کوششوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: حکومت کا پولیس کو جاری فنڈز اور استعمال کا جائزہ لینے کا فیصلہ
ایران کے ساتھ مذاکرات
بلاول بھٹو نے کہاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی پر اتقاق اور توثیق کی ہے، ایران کے10 نکاتی فارمولے کو مذاکرات کی بنیاد بنایا گیا ہے، البتہ ایران کے کچھ نکات پر اب بھی اختلاف رائے موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ جویریہ عباسی کا شوہر کے ساتھ بولڈ فوٹو شوٹ، صارفین کی کڑی تنقید
علاقے کی صورتحال
ان کا کہنا تھا کہ ایران میں بمباری اور خطے میں جوابی کارروائیاں رک چکی ہیں، پاکستان کو امید ہے کہ اعتماد سازی کے خلا کو پُر کیا جا سکے۔ حالیہ تنازع سے انسانی جانوں کے ضیاع اور عالمی معیشت پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔
امن کے قیام کی اہمیت
نوبل امن انعام کی نامزدگی کے سوال اور افواہوں پر بلاول بھٹو نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہماری پہلی ترجیح انعام نہیں بلکہ خطے میں پائیدار امن کا قیام ہے۔ بلاول نے زور دیا کہ عالمی برادری کے پاس "پلان بی" کی گنجائش نہیں، ہمیں ہر صورت "پلان اے" یعنی امن کو ہی کامیاب بنانا ہوگا۔








