وزارت مذہبی امور اور ایئر لائنز کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار، بڑے بحران کا اندیشہ
حج سکیم 2026: بحران کی توقع
لاہور (اشفاق انجم سے) وزارت مذہبی امور اور ایئر لائنز کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے، جس کی وجہ سے بڑے بحران کا اندیشہ ہے۔ سرکاری حج سکیم 2026ء کے تحت پاکستان سے جانے والے 1 لاکھ 20 ہزار عازمین میں سے کسی کی ٹکٹ بھی ایشو نہیں ہو سکی۔ ایئر لائنز کی جانب سے حج کرایوں میں اضافہ کے مطالبے پر وزارت فیصلہ نہ کر سکی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں پہلے AI ڈیلیوری یونٹ کی منظوری دے دی
کرایوں میں اضافے کی ضرورت
تفصیلات کے مطابق، موجودہ فیول چارجز کی روشنی میں اگر حج کرایوں میں اضافہ نہ کیا گیا تو ایئر لائنز کو 400 ڈالر تک فی حاجی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سعودی ایئر لائنز اور پی آئی اے کو چار، چار ارب روپے کا جھٹکا لگے گا، جبکہ ایئر بلیو اور ایئر سیال کو بھی ایک ایک ارب سے زیادہ کا نقصان برداشت کرنا ہوگا۔ حج آپریشن کے آغاز میں ایک ہفتہ باقی ہے، ملک بھر میں کسی ایک حاجی کو بھی ٹکٹ نہیں ملی، صرف حج ویزے جاری کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بزنس کونسل دبئی کا موجودہ جیوپولیٹیکل کاروباری چیلنجز پر اجلاس کا انعقاد، درپیش چیلنجز اور مارکیٹ آپریشنز پر اثرات سے متعلق گفتگو کی گئی
وزارت اور ایئر لائنز کے مابین میٹنگز
وزارت مذہبی امور اور ایئر لائنز کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر زوم کے ذریعے میٹنگ ہو رہی ہیں۔ جمعرات کو ہونے والی میٹنگ میں وزارت نے سول ڈیفنس، ایئر لائنز، اور ایوی ایشن کے ذمہ داران کی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ وزارت کا مؤقف ہے کہ حاجی اس وقت 400 ڈالرز کی ادائیگی نہیں کر سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں پولیس سرٹیفکیٹس کی مفت فراہمی بند،بھاری فیسیں عائد
ایئر لائنز کا مطالبہ
ایئر لائنز کا کہنا ہے کہ وزارت تحریری طور پر یقین دہانی کرا دے کہ ادائیگیاں بعد میں کی جا سکتی ہیں، لیکن جنگ سے پہلے اور جنگ کے بعد فیول کی قیمت میں فرق کی ادائیگی کی جائے۔ پیر تک اگر ٹکٹ ایشو نہیں ہوئی تو حاجی کو ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں حج آپریشن کے آغاز سے بڑے بحران کا اندیشہ ہے۔
حاجی کیمپوں کی صورتحال
ملک بھر کے حاجی ٹکٹ نہ ملنے پر اضطراب کا شکار ہیں۔ حاجی کیمپوں کے پاس اس حوالے سے کوئی جواب نہیں ہے کہ ٹکٹ کیوں نہیں دی جا رہی ہیں۔ 18 اپریل 2026ء سے ملک بھر میں حج آپریشن کا آغاز ہو رہا ہے۔








