سفارتی جنگ چھیڑنے کی قیمت ادا کرنا ہوگی
اسرائیل نے ہسپانوی نمائندوں کو نکال دیا
تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل نے سول ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر سے سپین کے نمائندوں کو نکال دیا۔
وزیر خارجہ کا بیان
’’جنگ‘‘ کے مطابق اسرائیلی وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ ہسپانوی نمائندوں کو امریکی منظوری کے بعد سینٹر سے نکالا گیا ہے۔
نیتن یاہو کا موقف
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا: ’’سپین کی جانب سے بار بار اسرائیل کے خلاف کھڑے ہونے کے بعد یہ اقدام کیا گیا۔ سپین نے ہمارے ہیروز اور فوج کے سپاہیوں کو دنیا کے سامنے بدنام کیا۔ اسرائیل کے خلاف سفارتی جنگ چھیڑنے کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔‘‘
ہسپانوی نمائندوں کی نکالی جانے کی وجہ
تل ابیب سے عرب میڈیا کے مطابق، ہسپانوی نمائندوں کو کریات گاٹ میں امریکی سول ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر سے اسرائیل کے خلاف سپین کے مبینہ متعصبانہ رویے اپنانے پر نکالا گیا۔
سیاسی پس منظر
واضح رہے کہ سپین کی سوشلسٹ حکومت نے مشرق وسطیٰ میں جاری اسرائیلی جنگی جرائم کے خلاف غزہ جنگ کے دوران بھی بھرپور آواز اٹھائی تھی۔ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جارحیت میں اپنے اڈے دینے سے بھی انکار کر دیا تھا۔








