کمال خرازی ایران کی خارجہ پالیسی ترتیب دینے والی شخصیات میں اہم ترین تصور کیے جاتے تھے
کمال خرازی کی زندگی
لاہور (خصوصی رپورٹ) کمال خرازی ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای کے بھی مشیر رہ چکے ہیں اور نئے سپریم لیڈر کے لیے اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: چلی کے دارالحکومت میں 6.3 شدت کا زلزلہ
سیاسی حیثیت
وہ امور خارجہ سے متعلق ایران کی سٹریٹیجک کونسل کے سربراہ تھے۔ کمال خرازی کی عمر 81 برس تھی اور وہ ایران کی خارجہ پالیسی ترتیب دینے والی شخصیات میں اہم ترین تصور کیے جاتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے خلاف میچ میں سری لنکن کھلاڑی نے ناپسندیدہ ریکارڈ اپنے نام کر لیا
وزارت خارجہ کا دور
کمال خرازی 1997ء سے 2005ء کے دوران اصلاح پسند صدر محمد خاتمی کے دور میں وزیر خارجہ تھے۔ اِس وقت وہ مشاورتی ادارے کے سربراہ تھے جو ملک کی اعلیٰ ترین قیادت کو خارجہ پالیسی پر سفارشات بھیجتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشترکہ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے آرٹیکل 243 میں ترامیم کی منظوری دے دی
حملہ اور شہادت
واضح رہے کہ تہران میں کمال خرازی کے گھر پر یکم اپریل کو امریکہ و اسرائیل نے فضائی حملہ کیا تھا، جس میں وہ شدید زخمی اور ان کی بیوی شہید ہوگئیں۔
آخری رسومات
زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے کمال خرازی نے جام شہادت نوش کیا۔ ان کی نماز جنازہ تہران میں ادا کر دی گئی، جس میں ایرانی عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔








