پاکستان جنگ بندی کروا رہا ہے، کسی نے بھی بھارت کا نام نہیں لیا، ہمیں کوئی پرواہ نہیں، ڈاکٹر راکیشن پھاٹک
جنگ بندی کے بعد مذاکرات کا آغاز
نئی دہلی (ویب ڈیسک) ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد اسلام آباد میں مذاکرات کا سلسلہ شروع ہونے جا رہا ہے۔ اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے سینئر بھارتی صحافی ڈاکٹر راکیش پھاٹک نے کہا ہے کہ پاکستان جنگ بندیاں کروا رہا ہے، بھولے سے بھی کسی نے بھارت کا نام نہیں لیا، ہمیں کوئی پوچھ نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (منگل) کا دن کیسا رہے گا ؟
بھارت کا موقف
ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایران اور امریکہ کی اس لڑائی میں بھارت کو کیا حاصل ہوا؟ ہم آج کی تاریخ میں سیز فائر کے اعلان میں پاکستان کے کردار کے بعد کہاں کھڑے ہیں؟ بھارت اور امریکہ لمحوں میں کی گئی خطاؤں کی صدیوں تک سزا پانے والے بن رہے ہیں۔ آج سے پہلے کون تصور کرسکتا تھا کہ پاکستان جیسا دیوالیہ ملک وہ دنیا کے اتنے بڑے ملکوں کی لڑائی میں سرپنچ کا کردار نبھائے گا؟ ٹرمپ اور ایرانی صدر پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کا نام لکھ کر کہیں گے کہ شکریہ، کرم، مہربانی۔
یہ بھی پڑھیں: خود کو واہگہ بارڈر کے تصور سے پار کیا تو انڈین آرمی والے میرے گرد گھیرا ڈالے ہوئے تھے، آرمی کا ٹرک مجھے کسی نامعلوم جگہ لے جانے کیلئے کھڑا تھا۔
ملکی حیثیت کا نقصان
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کا سب سے بڑا نقصان ہمارے ملک کو ہوا ہے کہ ہماری برادری میں حیثیت ختم ہوگئی، ہمارا اقبال جاتا رہا۔ ہم تو وہ ملک ہیں جنہوں نے آزادی کے 6 سال بعد کوریا جنگ کو رکوانے میں بھومیکا ادا کی تھی اور پھر کمیشن کی صدارت بھی ہمارے پاس تھی۔ اس کے بعد بھی ویتنام، کمبوڈیا اور لاؤس وغیرہ سمیت کئی جنگ بندیوں میں ہم نے ذمہ داری ادا کی ہے۔
بھارتی خارجہ پالیسی کی تنقید
وہاں سے آج ہم یہاں پہنچ گئے کہ پڑوس کا چھوٹا سا ملک امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرا رہا ہے۔ سرکار میں بیٹھے لوگوں نے پاکستان کی طرح دلال دیش نہیں ہیں کہہ کر ودیش نیتی کا شیرازہ بکھیر دیا ہے، یہ ایسی غلطیاں ہیں جن کی سزا آج ہندوستان بھگت رہا ہے۔ پوری دنیا اس جنگ سے تراہی مام کر رہی تھی، لیکن بھولے سے کسی نے بھارت کا نام نہیں لیا۔ رسم ادائیگی کے لیے کچھ ملکوں نے کہا، ہمیں کوئی پوچھ نہیں رہا، بھولے بھٹکے کسی نے نہیں کہا بھائی صاحب، ہماری لڑائی رکوادیجئے۔
ये जब्र भी देखा है तारीख़ की नज़रों ने
लम्हों ने ख़ता की थी सदियों ने सज़ा पाई।मोदी सरकार ने विदेश नीति का भट्टा बिठा दिया है।
▪️
पाकिस्तान मध्यस्थता कर रहा है और हमें कोई पूछ नहीं रहा। pic.twitter.com/a3lT8W7nYl— Dr.Rakesh Pathak डॉ. राकेश पाठक راکیش (@DrRakeshPathak7) April 10, 2026








