یہ سب تمھارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے۔۔”آپ کی محنت یاد رکھی جائے گی“یہ الفاظ میرے اور میرے ساتھیوں کیلئے بڑا اعزاز تھے
مصنف کی معلومات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 495
یہ بھی پڑھیں: اللہ پاک طینت راہ لوگوں کو زیادہ دیر تک دنیا میں نہیں بھیجتا، خوش قسمت ہیں ایسے لوگ جو دنیا سے جانے کے بعد دوسروں کی دعاؤں میں جگہ پاتے ہیں
اربن یونٹ پنجاب
اربن یونٹ پنجاب کا قیام نومبر 2016ء میں ہوا، جسے 2005ء میں بنایا گیا تھا۔ شروع میں یہ ایک سرکاری ادارہ تھا، بعد میں اسے ایک پرائیویٹ کمپنی میں تبدیل کیا گیا اور سیکیورٹی ایکس چینج کمیشن میں رجسٹر کرایا گیا۔ اس یونٹ کا مقصد شہروں میں منظم بہتری لانا اور تربیتی اداروں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی کا اجلاس آج شام 5 بجے ہوگا، 10 نکاتی ایجنڈا جاری
اکیڈمی کا دورہ
اربن یونٹ کی ٹیم اپنے چیف ڈاکٹر ثاقب کی قیادت میں اکیڈمی کے دورے پر آئی۔ ان کے ساتھ منصوبہ بندی کے ماہر عابد حسینی اور رضوان بھی موجود تھے۔ کیمپس اور یہاں کی سہولیات دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔ یہ لوگ اس وقت ایشین ڈویلپمنٹ کے ساتھ مل کر پنجاب کے 3 درمیانے شہروں ساہیوال، سیالکوٹ اور گجرات میں انٹرسٹی اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ شروع کر چکے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: چین اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مل کر پرامن اور ترقی یافتہ خطہ تشکیل دینے کے لئے پرعزم ہیں، وزیر مملکت حذیفہ رحمان
ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی دلچسپی
وہ اکیڈمی کے ماحول سے اس قدر متاثر ہوئے کہ چند ہی دنوں بعد ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی ٹیم، جس میں کنٹری ہیڈ مسٹر ظہیر اور بلال شامل تھے، کو لے کر آئے۔ انھیں کیمپس کا دورہ کرایا گیا اور تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ جس کے دوران ڈاکٹر ثاقب نے بتایا کہ بینک اکیڈمی کے لیے بیس کروڑ کی رقم دینے پر تیار ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم 9 مئی کی مذمت کرتے ہیں، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا ، چیئر مین پی ٹی آئی
فنانسنگ کی تفصیلات
اس میں 10 کروڑ روپے "سافٹ انٹرونشن" کے لیے ہوں گے، جو کہ فیکلٹی کی تربیت اور دیگر بجٹ کے لیے ہیں۔ باقی رقم "ہارڈ انٹرونشن" کے لیے ہوگی تاکہ کیمپس کی انوائرمنٹس کو بین الاقوامی سطح تک پہنچایا جا سکے۔ یہ ایک بڑی کامیابی تھی کیونکہ اس طرح کی رقم کبھی کسی بین الاقوامی ادارے نے اکیڈمی پر خرچ کرنے کی پیشکش نہیں کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: آج کے دن ہمیں پاکستان کو دنیا میں باوقار مقام دلانے کا عہد کرنا ہوگا: مریم نواز
گورنمنٹ کی حمایت
حکومت پنجاب نے پہلے ہی 10 کروڑ کی گرانٹ اکیڈمی کے نئے ہوسٹل اور نئے اکیڈمک بلاک کے لیے فراہم کر چکی تھی۔ اربن یونٹ کی ٹیم "سڈنی سکول آف گورنس" اور محکمہ بلدیات پنجاب کے درمیان "ایم او یو" کے لیے بھی کوشاں تھی۔
یہ بھی پڑھیں: دھرمیندرسے اپنی 400 کروڑ روپے کی دولت چھوڑ گئے، دونوں خاندانوں میں برابر تقسیم ہوگی
سڈنی سکول آف گورنس کا دورہ
عابد حسینی نے بتایا کہ "سڈنی سکول آف گورنس" کی سنیئر ایڈوائزر میڈم "روبرٹا" اکیڈمی کے دورے کے لیے آئیں۔ انہوں نے یہاں کے جدید سہولیات اور فیکلٹی سے مل کر خوشی کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی بجٹ 2025-26، سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کی صنعتی ترقی، برآمدات کے فروغ کے لیے تجاویز پیش، سپر ٹیکس کے خاتمے اور زیرو ریٹنگ بحال کرنے کا مطالبہ
تاریخی تقریب
ایک تاریخی تقریب میں سڈنی سکول آف گورنس اور محکمہ بلدیات کے درمیان ایم او یو پر دستخط ہوئے۔ سیکرٹری بلدیات خالد مسعود نے میری کوششوں کی تعریف کی اور کہا: "شہزاد! آپ کی محنت یاد رکھی جائے گی۔" یہ الفاظ میرے اور میری ٹیم کے لیے ایک بڑا اعزاز تھے۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) اور ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
“یہ سب تمھارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے۔” (جاری ہے)








