امریکہ، ایران مذاکرات میں معاملہ کس بات پر رک گیا ہے؟ تجزیہ کار ابصار عالم نے بڑا دعویٰ کردیا۔
ایران اور امریکہ کے مذاکرات
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کس بات پر رکے ہوئے ہیں؟ سینئر صحافی اور تجزیہ کار ابصار عالم نے بڑا دعویٰ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عروب جتوئی سے رشوت لینے کا مقدمہ، این سی سی آئی اے کے گرفتار افسران کا مزید 3 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور
ایران کے مطالبات
ابصار عالم کا یوٹیوب پر کہنا ہے کہ مسئلہ یہ ہے کہ ایران نے کہا ہے کہ ان پر پابندیاں ختم کی جائیں اور جو نقصان ہوا ہے اس کا ہرجانہ ادا کیا جائے۔ دونوں ممالک کے درمیان مسئلہ اب پیسوں پر رکا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یمنیٰ زیدی نے ’’قرضِ جاں‘‘ میں ایک قسط کا کتنا معاوضہ لیا؟ بڑا دعویٰ
معاملات کا جائزہ
ان کا کہنا تھا کہ ملٹری، سیکیورٹی اور نیوکلیئر معاملات طے پا چکے ہیں، اور ایران نیوکلیئر ہتھیار نہ بنانے کے معاہدے پر قائم ہے۔ اصل رکاوٹ یہ ہے کہ ایران چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ٹول لگایا جائے تاکہ وہ اپنے نقصان کا ازالہ کر سکے۔
یہ بھی پڑھیں: کم سے کم نقصان ہو، عوام کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں: مریم اورنگزیب
قانونی پیچیدگیاں
ایران اور اومان کے کنٹرول کے حوالے سے مسائل ہیں، کیوں کہ آبنائے ہرمز پر ٹول لگانے کے معاملے پر دیگر خلیجی ممالک متفق نہیں ہیں۔ اس لئے ایک ایسا میکانزم بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اگر یہ سیٹ ہو جائے تو ایران کا مکمل کنٹرول نہ ہو جائے۔
مذاکرات کی صورتحال
ابصار عالم نے بتایا کہ کھلا سمندر جس پر پہلے کسی کا قبضہ نہیں تھا، اب ایران نے اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ مختلف ممالک جیسے ترکی، سعودی عرب اور پاکستان بھی اس میں شامل ہو رہے ہیں۔
ایران یہ چاہتا ہے کہ ابنائے ہرمز پہ ٹول لگائے اور اس سے جو پیسہ ملے اپنا نقصان پورا کرے... pic.twitter.com/sy1LTsUdcc
— محفوظ الرحمن اعوان (@mahfooz51871) April 12, 2026








