مذاکرات کی ناکامی کے حوالے سے امریکہ اور ایران کے متضاد بیانات
امن مذاکرات کی ناکامی
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ اور ایران کی جانب سے امن مذاکرات کی ناکامی کی مختلف وجوہات پیش کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سے عبرتناک شکست پر انڈین کرکٹ بورڈ کی ٹویٹ توجہ کا مرکز بن گئی
ایرانی سرکاری میڈیا کا بیان
بی بی سی اردو کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی بات چیت کو امریکہ کے ’غیر معقول مطالبات‘ نے متاثر کیا۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ایرانی وفد کی مختلف تجاویز کے باوجود، امریکی فریق کے غیر معقول مطالبات مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کا باعث بنے۔ یوں بات چیت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔‘
یہ بھی پڑھیں: میرا گزشتہ روز کا غصہ قابل جواز نہیں تھا مجھے افسوس ہے،جسٹس حسن اورنگزیب،اعظم سواتی کے جسمانی ریمانڈ کا آرڈر کالعدم قرار
امریکہ کا مؤقف
دوسری جانب، امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے کافی ’لچک‘ اور ’روا داری‘ کا مظاہرہ کیا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انھیں ہدایت کی تھی کہ ’یہاں نیک نیتی سے آئیں اور معاہدہ کرنے کی پوری کوشش کریں۔ ہم نے یہی کیا، مگر بدقسمتی سے کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ ’انتہائی سادہ تجویز—ایک فریم ورک—پیش کرکے جا رہے ہیں، جو ہمارا آخری اور بہترین مؤقف ہے۔‘
آئندہ مراحل کی غیر یقینی صورتحال
فی الحال واضح نہیں کہ دو ہفتے کی جنگ بندی کے معاہدے کے آئندہ مراحل کیا ہوں گے اور آیا فریقین میں مزید بات چیت ہوگی یا نہیں۔








