امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے ان مذاکرات کا نتیجہ کچھ بھی نکلے، فائدہ پاکستان کا ہی ہے، ڈاکٹر کرسٹین فیئر کی بھارتی نیوز ایجنسی سے گفتگو
پاکستان کی سفارتی فتح
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی پروفیسر اور جنوبی ایشیا کے امور کی معروف ماہر ڈاکٹر کرسٹین فیئر نے امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کے ثالثی کے کردار پر اپنا ردِعمل دیتے ہوئے اسے اسلام آباد کی ایک بڑی سفارتی فتح قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حلوے سے بھری پلیٹیں، شاہ صاحب خود بھی مزہ لیتے رہے اور ساتھی بھی، ایک دن آرائشی ٹانگہ آیا اور چلتے بنے
پاکستان کی نئی سفارتی کوششیں
بھارتی نیوز ایجنسی ''اے این آئی'' سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان نے واشنگٹن کی نظروں میں دوبارہ مقام حاصل کرنے کے لیے غیر معمولی کام کیا ہے۔ یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب پاکستان نے 'ایبی گیٹ' (Abbey Gate) حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ کو واشنگٹن کے حوالے کرنے کا دعویٰ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (پیر) کا دن کیسا ہوگا؟
سفارتی فتح کی مثالیں
کرسٹین فیئر نے کہا کہ ہم نے دیکھا کہ 'آپریشن سندور' کے دوران کس طرح پاکستان نے شکست کے جبڑے سے سفارتی فتح چھینی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے ان مذاکرات کا نتیجہ کچھ بھی نکلے، فائدہ پاکستان کا ہی ہے۔
مستقبل کی توقعات
اگر ان مذاکرات کے نتیجے میں کسی بھی قسم کا پائیدار امن قائم ہوتا ہے تو یہ اسلام آباد کی ایک بہت بڑی تاریخی فتح ہوگی اور اگر معاہدہ نہیں بھی ہوتا، تب بھی پاکستان خود کو ایک عالمی سہولت کار کے طور پر منوانے میں کامیاب ہو چکا ہے، جو کہ اس کے لیے ایک بڑی جیت ہے۔
#WATCH | Washington DC | On Pakistan's mediation, Professor at the Georgetown University, Dr Christine Fair says, "Pakistan over the last year has done an incredible job of inveigling itself into Washington's good graces... It began when Pakistan handed up this person that… pic.twitter.com/jZbGGyVsNq
— ANI (@ANI) April 12, 2026








