حالات کچھ بھی ہوں کاروبارِ زندگی رواں دواں رہتا ہے، مرنے والے آسودۂ زمین ہوجاتے ہیں اور جینے والے روز و شب کے چکر میں سفر جاری رکھتے ہیں۔
سفر کی شروعات
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 115
4 دسمبر کو خالدہ (بیگم کی ماسی کی بیٹی) اپنی بیٹی کے ہمراہ ہمیں لینے کے لیے آئیں اور 124-Windsord E-7 لے گئیں۔ وہاں اُن کے خاوند ”خالد صاحب“ سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک بڑے دھیمے اور خوش اخلاق انسان ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعرات) کا دن کیسا رہے گا ؟
لندن کی سیر
شام کو سٹریٹ فورڈ میں سٹورز پر لے گئے۔ وہاں خالد صاحب نے ایک مسجد دکھائی جو گرجا گھر میں بنائی ہوئی تھی۔ اگلے دن پھر خالد صاحب ریمفورڈ روڈ لے گئے اور سٹوروں میں چکّر لگاتے رہے۔ کیمبرج مانچسٹر سٹی جانے کے لیے کہا لیکن وہ انتظام نہ کر سکے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے
بازاروں کی سیر
9 ستمبر کو کوئینز مارکیٹ کی سیر کی اور 10 دسمبر کو ہائیڈ پارک گئے، جہاں سپیچ کارنر اور ڈیانا میموریل فاؤنڈیشن جا کر کچھ دیر بیٹھے رہے۔ 12 دسمبر کو ایک بڑے اور مہنگے سٹور گئے بغیر شاپنگ واپس ہوئے، اور 15 دسمبر کو لندن میں رمضان کا پہلا روزہ رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف نے طلبا کیلئے مفت لیپ ٹاپ اسکیم 2025 کا افتتاح کر دیا
واپسی کا سفر
16 دسمبر کو حاجی اکرم کی درمیانی صاحبزادی کے گھر "Slough" گئے اور وہاں سے سیدھے ہیتھرو ائیرپورٹ سے جہاز میں سوار ہوئے اور واپس پاکستان جا پہنچے۔ وہاں بڑا لڑکا اعجاز سعید اور پوتی فاطمہ سعید ہمیں لینے کے لیے آئے ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سموگ پر لانگ ٹرم پالیسی ،10مرلہ گھروں میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانا لازمی قراردیا جائے،لاہور ہائیکورٹ
نوٹ
جب ہم عازمِ انگلینڈ ہوئے تو ذہن اِن جزئیات میں مبتلا نہ تھا کہ جس جزیرہ میں ہم جا رہے ہیں اُس کی ہیئت ترکیبی کیا ہے؟ اور اُس کی کُلی مسافت کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے ذرائع پر بھی ہماری نظر نہ تھی؟ بلکہ وہاں موجود رفقاء و شرفاء پر تکیہ تھا کہ یہ فکر ان کو ہوگی کہ ہم تشنۂ لب نہ لوٹیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں رمضان کا چاند نظر نہیں آیا
کینیڈا کی سیر
2004 ء میں انگلینڈ کی سیر و سیاحت کے بعد بیٹے احمد ندیم نے بھی 2005ء میں انگڑائی لی اور کینیڈا کے سفر پر آنے کے لیے آمادہ کیا۔ وہاں سے سپانسر شپ لیٹر بھیج دیا۔ کاغذات مکمل کر کے اسلام آباد میں واقع کینیڈا کی ایمبیسی کو بذریعہ کورئیر سروس بجھوا دئیے گئے۔ انٹرویو کے لیے بلوایا گیا تو کنونشن سینٹر اسلام آباد سے بس پکڑ کر ایمبیسی چلے گئے۔ انٹرویو بخیر و عافیت ہوگیا اور کوئی مشکل پیش نہ آئی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلی مریم نواز نے تھیلیسیمیا کی مریضہ کی خواہش پوری کردی، الیکٹرک بائیک دلادی
تیاری کی رفتاری
یہی کوئی 20 دن بعد کورئیر سروس کے ذریعے پاسپورٹ ویزہ لگنے کے بعد مل گیا۔ تیاری تو پہلے سے جاری و ساری تھی چنانچہ اُس میں اور تیزی پیدا ہوگئی۔ جون کا مہینہ تھا۔ قیامت خیز گرمی پڑ رہی تھی۔
زندگی کا سفر
بہرحال حالات کچھ بھی ہوں، کاروبار زندگی تو رواں دواں رہتا ہے۔ مرنے والے آسودۂ زمیں ہوجاتے ہیں اور جینے والے روز و شب کے نہ ختم ہونے والے چکّر میں گرفتار اُفتاں و خیزاں اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








