غزہ سے زخمی اور بیمار فلسطینیوں کے طبی انخلا کا عمل ایک بار پھر شروع ہو گیا
فلسطینیوں کے طبی انخلا کا عمل بحال
رام اللہ (اے پی پی) غزہ سے زخمی اور بیمار فلسطینیوں کے طبی انخلا کا عمل ایک بار پھر شروع ہو گیا ہے، جو چند روز قبل ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے عارضی طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: 9 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم کو سزائے موت، آخری الفاظ کیا تھے اور آخری کھانا کیا کھایا؟
مریضوں کی منتقلی کی تفصیلات
’’شنہوا‘‘ کے مطابق رفح کراسنگ کے راستے مریضوں کی منتقلی دوبارہ بحال کی گئی ہے۔ فلسطینی ہلال احمر کے مطابق یہ کارروائی ڈبلیو ایچ او اور متعلقہ حکام کے تعاون سے انجام دی گئی۔ ادارے نے بتایا کہ اس مرحلے میں 27 مریضوں اور ان کے 42 تیمارداروں کو غزہ سے مصر منتقل کیا گیا۔ زخمیوں کو جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے ہسپتال سے ایمبولینسز کے ذریعے رفح بارڈر تک پہنچایا گیا، جہاں سے انہیں بیرونِ ملک علاج کے لیے روانہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: یکم محرم الحرام کو عام تعطیل کا اعلان
اپریشن کی معطلی کی وجہ
واضح رہے کہ ڈبلیو ایچ او نے 6 اپریل کو ایک فلسطینی اہلکار کی ہلاکت کے بعد انخلا کا عمل روک دیا تھا۔ ادارے کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے شہریوں اور امدادی کارکنوں کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے آپریشن معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
رفح کراسنگ کی اہمیت
یاد رہے کہ رفح کراسنگ غزہ کے رہائشیوں کے لیے واحد زمینی راستہ ہے جس کے ذریعے وہ اسرائیل سے گزرے بغیر بیرونِ ملک جا سکتے ہیں۔








