26ویں آئینی ترمیم پر حکومت سے اب کوئی بڑا اختلاف نہیں رہا، مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان کی توجہ کا مرکز
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) 26ویں مجوزہ آئینی ترمیم کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان اس وقت مرکز نگاہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سیالکوٹ: تمام تر کوششوں کے باوجود ٹریفک پولیس وائرل چاچا کے سائز کا ہیلمٹ نہ مہیا کر سکی،DSP مبشر قادر کا ہیلمٹ کے لیے خصوصی ٹیم لاہور روانہ کرنے کا اعلان
آئینی ترمیمی بل پر بات چیت
اسلام آباد میں بلاول بھٹو کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اور جے یوآئی نے آئینی ترمیمی بل پر اتفاق رائے کیا تھا۔ ترمیمی بل کے جن حصوں پر ہم نے اعتراض کیا، حکومت ان سے دستبردار ہوگئی۔ حکومت اور ہمارے درمیان بل کے حوالے سے بڑا متنازعہ نکتہ موجود نہیں، اکثر اختلافی اجزا اب تحلیل ہوچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب
پاکستان تحریک انصاف کی شمولیت
ہم نے پاکستان تحریک انصاف کو بھی مسلسل اعتماد میں لیے رکھا، حکومت سے مشاورت سے مسلسل آگاہ کیا۔ آئینی ترمیمی بل کا مسودہ جب ہماری طرف سے مکمل ہوا تو پی ٹی آئی کی قیادت نے خواہش ظاہر کی کہ ہم عمران خان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں تاکہ اتفاق رائے کو ان کی تائید حاصل ہوسکے۔
عمران خان سے ملاقات کی تفصیل
ان کا مزید کہنا تھا کہ آج پی ٹی آئی رہنماؤں کی عمران خان ملاقات ہوئی جس کی تفصیل انہوں نے پریس کانفرنس میں بیان کی۔ مجھ تک عمران خان کا جو پیغام پہنچایا گیا وہ ایک مثبت لب و لہجے کا پیغام تھا، پی ٹی آئی نے ایک دن مانگا ہے مجھ تک ان کا نقطہ نظر پہنچ جائے گا۔








