کراچی: کمسن پر بدترین تشدد کرنے والا گرفتار
کراچی میں 8 سالہ بچے پر تشدد
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاپوش نگر میں 8 سالہ بچے پر معمولی بات پرتشدد کرنے والے دکان دار کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: صحافیوں، ایڈیٹرز اور کالم نگاروں کے پلیٹ فارم ’’پہچان‘‘کے زیرِ اہتمام پروقار ظہرانہ
واقعہ کی تفصیلات
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاپوش نگر تھانے کے علاقے ناظم آباد اورنگ آباد میں 8 سالہ کمسن بچے کو بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم محمد دین کو گرفتار کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: رجب بٹ اور ایمان کے درمیان علیحدگی کی افواہوں کی حقیقت سامنے آ گئی
پولیس کی کارروائی
ایس ایچ او پاپوش نگر انسپکٹر شوکت اعوان نے بتایا کہ بچے کو تشدد کا نشانہ بنانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ اور ایس ایس پی سینٹرل ذیشان صدیقی نے فوراً واقعہ کا نوٹس لیا جس پر پاپوش نگر پولیس نے ملزم محمد دین کو گرفتار کیا اور اس کی نشاندہی پر متاثرہ بچے تک پہنچی اور بھائی کی مدعیت میں ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: 20 کلو آٹے کا تھیلا 200 روپیہ مہنگا، 2650 میں فروخت ہونے لگا
تشدد کا سبب
ایس ایچ او نے بتایا کہ گرفتار ملزم محمد دین کی اورنگ آباد میں ڈرائی کلیننگ کی دکان ہے اور جس مقام پر ملزم کی دکان ہے، متاثرہ بچہ اس کی دکان کے قریب مسجد میں خاکروب ہے۔ متاثرہ بچہ غیر مسلم ہے اور اس کا نام ہیری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر، پاکستان فضائی آلودگی میں سرفہرست
بچے کی کہانی
بچے نے پولیس کو بتایا کہ ان کے محلے میں ایک گھر میں شادی کی تقریب تھی اور شادی والے گھر سے ڈرائی کلیننگ کی دکان سے برابر والی دو دکانوں میں کھانا دیا گیا جبکہ ملزم کو کھانا نہیں دیا گیا جس پر ملزم نے بچے کو بلا کر کہا کہ دکان والوں کو تو کھانا دے دیا گیا لیکن تمیں کھانا نہیں دیا، جس پر بچے نے ملزم کو کہا اگر مجھے کھانا نہیں دیا تو آپ کو بھی تو کھانا نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ، پاکستان کے خلاف میچ سے قبل بھارت کا اہم کھلاڑی مبینہ طور پر زخمی ہو گیا
تشدد کی کارروائی
معمولی سی بات پر گرفتار ملزم بچے کو اپنی دکان میں لے گیا اور بچے کو تشدد کا نشانہ بناتا رہا اور اس کی ویڈیو بھی بناتا رہا، پولیس کو مغلظات بکتا رہا اور ویڈیو وائرل کردی۔
ملزم کا اعتراف
دوسری جانب ملزم محمد دین نے بتایا کہ متاثرہ بچے ہیری سے میرا کھانے پر اختلاف ہوا تھا جس پر میں نے اسے رسیوں سے باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور مغلظات بکیں۔ مجھ سے غلطی ہوئی اور میں متاثرہ بچے، پولیس اور شہریوں سے معافی چاہتا ہوں، آئندہ مستقبل میں ایسا کبھی نہیں ہوگا۔








