سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے کیوں ناراض تھے ۔۔۔؟ حامد میر نے تہلکہ خیز انکشافات کر دیئے
قمر جاوید باجوہ اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی کشیدگی
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے کیوں ناراض تھے؟ اس حوالے سے سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ کی جانب سے چینی درآمدات پر 245 فیصد تک ٹیرف عائد کیے جانےپر چین کا رد عمل
حمید میر کا بلاگ
حامد میر نے "جنگ" میں شائع ہونے والے اپنے بلاگ بعنوان "جسٹس منیر یا قاضی فائز عیسیٰ؟" میں لکھا کہ کیا آپ کو ندامت نہیں کہ آپ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جیسے جج کی حمایت کرتے رہے، جس کا آج جسٹس محمد منیر کے ساتھ موازنہ کیا جا رہا ہے؟ یہ سوال ایک ایسے دوست نے کیا، جس کو میں نے چند سال قبل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی وجہ سے ناراض کیا تھا۔ میرے یہ دوست سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بہت قریب تھے۔ ایک ملاقات میں باجوہ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو انتہائی متعصب اور بددیانت جج قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: روسی بحریہ کے پاس جدید ترین ایٹمی ہتھیار، پیوٹن نے مزید 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کردیا
باجوہ کی ناراضگی کا پس منظر
میں نے قاضی صاحب کا دفاع کیا اور کہا کہ اگر آپ اس جج کے خلاف کسی کارروائی کا سوچ رہے ہیں تو آپ کی سوچ غلط ہے۔ آرمی چیف نے پوچھا کہ کیا آپ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ذاتی طور پر جانتے ہیں؟ میں نے بتایا کہ ان جج صاحب سے میری ملاقات تو دور کی بات کبھی علیک سلیک بھی نہیں ہوئی۔ یہ سن کر باجوہ نے کہا کہ آپ کو بہت جلد پتہ چل جائے گا کہ وہ کس قسم کے انسان ہیں۔
مجھے سمجھ آ چکی تھی کہ فیض آباد دھرنا کیس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے سے آرمی چیف ناراض ہیں اور قاضی صاحب کے خلاف نااہلی کا ریفرنس تیار کیا جا رہا تھا۔ میں نے 15 اپریل 2019ء کو روزنامہ "جنگ" میں "شہداء سے غداری" کے عنوان سے کالم میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف طاقتور حلقوں کے متوقع کارروائی کا بھانڈا پھوڑ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اسرائیل کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہو گیا
وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات
بلاگ میں حامد میر نے مزید لکھا کہ ایک دن خان صاحب نے مجھے وزیر اعظم ہاؤس بلایا اور کہا کہ وہ کسی جج کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہے۔ جب میں رخصت ہو رہا تھا تو خان صاحب نے سرگوشی کے انداز میں مجھے کہا کہ تم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بتا دو کہ میں ان کے خلاف کوئی سازش نہیں کر رہا۔
یہ بھی پڑھیں: منفرد اسلوب کے شاعر جون ایلیا کو دنیا سے رخصت ہوئے 22 برس بیت گئے
عدلیہ کے خلاف محاذ آرائی
جب کہ میں نے وزیر اعظم کو بتایا کہ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جانتا ہوں نہ میرا ان سے رابطہ ہے۔ میری بات سن کر وزیر اعظم کی زبان سے صرف یہ لفظ نکلا "UNBELIEVABLE"۔ اسی شام جنرل باجوہ اور میرے مشترکہ دوست نے مجھ سے شکوہ کیا کہ آپ نے میری گزارش کا لحاظ نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مچل سٹارک نے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے کا وسیم اکرم کا ریکارڈ توڑ دیا
قاضی فائز عیسیٰ کی پہلی ملاقات
بلاگ کے آخر میں حامد میر نے لکھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ میری پہلی باقاعدہ ملاقات لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے دوران ہوئی۔ میں نے اپنی تقریر میں ان کے خلاف ریفرنس کی مذمت کی تو وہ حاضرین میں بیٹھ کر مجھے سن رہے تھے۔ اس کے بعد قاضی فائز عیسیٰ نے مجھے اپنے انگریزی میں لکھے گئے مقالے کی نقل دی۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کے جائزہ مشن کی آمد سے قبل بڑا انکشاف، پاکستان میں غربت بڑھ کر 28.8 فیصد ہو گئی
آئینی اور قانونی حیثیت
13 اپریل 2023ء کو میں نے "سقوط آئین" کے خطرے پر کالم میں لکھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سقوط آئین نہیں ہونے دیں گے لیکن افسوس کہ میری رائے بالکل غلط نکلی۔ Chief Justice بننے کے بعد قاضی فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنا کیس میں اپنے فیصلے کی خود ہی خلاف ورزی کی اور وہ خفیہ اداروں کی سیاست میں مداخلت کے سہولت کار بن گئے۔
نتیجہ
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے دور میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا اور انہوں نے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات لگائے۔ ان کا اصل کردار مبارک ثانی کیس میں سامنے آیا جب وہ اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور ہوئے۔








