سربراہ بی این پی سردار اختر مینگل اور اسکے پانچ ساتھیوں کیخلاف دہشتگردی کا مقدمہ درج
تحریر کا مقصد
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: شادی سے ایک ماہ قبل منگیتر کی وفات سے دلبرداشتہ نوجوان نے خودکشی کرلی
مقدمے کی تفصیلات
جوائنٹ سیکرٹری سینیٹ جمیل احمد کی مدعیت میں اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ میں سردار اختر مینگل سمیت 6 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، جس میں دہشت گردی کی دفعہ بھی عائد کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نابینا نجومی بابا وانگا کی 2026 کے لیے کی جانے والی بڑی پیشگوئیاں سامنے آگئیں
تیننات کی کوشش
مقدمے کے متن کے مطابق اختر مینگل کے ساتھ دیگر 5 افراد نے مسلح ہوکر سینیٹ ہال میں زبردستی گھسنے کی کوشش کی۔ میرجہانزیب مینگل اور اختر نواز نے مسلح ہوکر سکیورٹی سٹاف کو دھکے دیے، ملزمان نے زبردستی سینیٹ ہال میں اسلحہ سمیت گھسنے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں چلتی کار میں خاتون منیجر کے ساتھ اجتماعی زیادتی، سی ای او سمیت 3 گرفتار
سینیٹ گیلری سے اخراج
یاد رہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے موقع پر اختر مینگل کو سینیٹ گیلری سے نکال دیا گیا تھا۔ اختر مینگل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "مجھے خاتون سکیورٹی اہلکار نے گیلری سے نکالا۔ میرا اپنی پارٹی کے مغوی ارکان سے آمنا سامنا ہورہا تھا، میں نے سب کی چوری پکڑی تو حکومتی وزرا کے پسینے نکل گئے۔"
پارٹی کے ارکان کی صورت حال
بی این پی کے قاسم رونجھو اور نسیمہ احسان مبینہ منحرف ارکان میں شامل ہیں اور انہوں نے پارٹی کی ہدایات کے برخلاف آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا ہے، جس پر سردار اختر مینگل نے پارٹی کے دونوں سینیٹرز کو مستعفی ہونے کا حکم دیا۔








