وزیراعظم اور بلاول بھٹو کی ملاقات میں 27ویں ترمیم پر اتفاق جیسی کوئی بات نہیں ہوئی، رانا ثنااللہ
وزیر اعظم کے مشیر کی وضاحت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنااللّٰہ نے کہا کہ وزیراعظم اور بلاول بھٹو کے درمیان ملاقات میں 27ویں ترمیم پر اتفاق جیسی کوئی بات نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیبلشمنٹ اور ٹاؤٹ کی “لوّ سٹوری” میں اتار چڑھاؤ ضرور آتے ہیں جس سے ۔ ۔ ۔” اقرارالحسن بھی میدان میں آگئیں
میٹنگ کی تفصیلات
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اس میٹنگ میں موجود تھا، میٹنگ میں 27ویں ترمیم پر اتفاق جیسی کوئی بات نہیں ہوئی۔ میٹنگ میں مختلف نوعیت کے معاملات زیر غور آئے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی ایچ اے لاہور پنجاب ٹینس چیمپئن شپ: ہادی حسین اور بسمل ضیاء نے سنگلز ٹائٹلز جیت لیے
26ویں آئینی ترمیم پر توجہ
انکا کہنا تھا کہ میٹنگ میں کہا گیا کہ فی الحال 26ویں آئینی ترمیم پر توجہ دینی چاہیے۔ میٹنگ میں طے ہوا کہ خورشید شاہ کی صدارت میں کمیٹی کام جاری رکھے گی۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی کوریا کی پہلی ایٹمی آبدوز کی نئی تصاویر جاری
متفقہ فیصلے کی اہمیت
رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ 27ویں ترمیم میں جو کچھ ہوگا وہ متفقہ طور پر ہوگا، انفرادی طور پر کچھ نہیں ہوگا۔ 26ویں ترمیم بہت پرفیکٹ ہے، زیادہ تر حصہ جوڈیشری سے متعلق تھا۔
یہ بھی پڑھیں: 26 نومبر احتجاج کے کیس میں علیمہ خان کی حاضری معافی کی درخواست منظور
پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی مشترکہ کوششیں
رانا ثنا اللّٰہ کا کہنا تھا کہ 27ویں ترمیم پر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی لیڈر شپ کا اتفاق ہے کہ وہ اتفاق رائے سے لائی جائے، اس مقصد سے کام ہی نہیں ہو رہا کہ جو چیزیں رہ گئی ہیں ان کو لایا جائے۔
خیالات کی عمومی رائے
وزیراعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ بعض چیزوں پر عمومی رائے تھی کہ ہو جانا چاہیے، آرٹیکل 140 اے سے متعلق ترمیم شامل کرنے کا ایم کیو ایم کا مطالبہ تھا۔








