شیرافضل مروت نے پارٹی کو عمران خان کی رہائی کیلئے پلان بی کی تجویز دیدی
شیر افضل مروت کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ قیادت اور ورکرز کے درمیان اعتماد کا بحران پیدا ہوا ہے، ہمیں احتجاج کا طریقہ کار تبدیل کرنا چاہئے، ہمیں اب جلسے نہیں دھرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی نااہلی پر احتجاج؛ ایک اور ملزم پر فرد جرم عائد
حکومت کا مطالبہ
شیر افضل مروت اپنے ایک بیان میں کہا کہ اگر ہم دو تین لاکھ لوگ ڈی چوک لے آتے ہیں تو حکومت بانی کی رہائی کے مطالبے کو سنجیدہ لے گی۔
یہ بھی پڑھیں: اہم خبر ۔۔۔پنجاب بھر میں ہوائی اڈوں اور ائیربیسز کے گرد 15 کلومیٹر تک دفعہ 144 نافذ
احتجاج کی حکمت عملی
انہوں نے کہا کہ احتجاج کیلئے نہ موبیلائزیشن اور نہ سوشل میڈیا پر کوئی موٹی ویشن ہے، ہمارے پاس کوئی پلان بی اور سی نہیں ہوتا، ڈی چوک پر ایک دن مار کھائی اور احتجاج ختم کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی پیرول پر رہائی کی درخواست اعتراض لگا کر واپس کردی گئی
وزیراعلیٰ کا کردار
ان کا کہنا تھا کہ علی امین ایک صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں، ان کو احتجاج کرنے کی ضرورت کیا ہے، علی امین گنڈاپور اپنے کام سے کام رکھیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز سے ایس او ایس چلڈرن ویلجز انٹرنیشنل کے صدر ڈیریجے وردوفا کی ملاقات، ادارے کے فروغ اور بہتری کیلئے تعاون پر اتفاق
ماضی کی کارکردگی
شیر افضل مروت نے کہا کہ میں نے 9 مئی سے 11 اپریل تک ڈیلیور کیا ہے، ہم تو جو مقام مقرر ہوتا تھا وہاں پہنچ جاتے تھے، یہ کیا کہ تاریخیں دینا پھر احتجاج مؤخر کردیں۔
فواد چودھری پر تنقید
ان کا کہنا تھا کہ فواد چودھری پی ٹی آئی کی قیادت کے پیچھے لگا ہے، اس کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے، جہلم میں ہمارے ورکرز نے لکھ کر دیا کہ فواد چودھری کو لیا تو پارٹی چھوڑ دیں گے، فواد چودھری فارغ آدمی ہے، اسمبلیوں سے استعفیٰ دلوانے میں یہ سب سے آگے تھا، اب کہتا ہے کہ بانی نے منع کیا ہے کہ تنقید نہ کرو، شاید بانی پی ٹی آئی نے اس سے خواب میں رابطہ کیا ہوگا۔








