وہی لوگ شکوہ و شکایت کرتے ہیں جنہیں اپنی ذات پر اعتماد نہیں ہوتا ایک فضول اور بھونڈا فعل ہے، یاد رکھیے مصیبت کبھی کسی کی مددگار نہیں ہوتی
لکھاری کی معلومات
مصنف: ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر
ترجمہ: ریاض محمود انجم
قسط: 34
یہ بھی پڑھیں: حسن علی کی قومی ٹیم میں شاندار واپسی پر وہاب ریاض کا دلچسپ تبصرہ
شکوہ و شکایت کا اثر
وہی لوگ شکوہ و شکایت کرتے ہیں جنہیں اپنی ذات پر اعتماد نہیں ہوتا۔ اپنی کمزوریوں اور خامیوں کے علاوہ اپنی نقصان دہ اور ضررساں عادات کے متعلق دوسروں سے اظہار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ مستقل طور پر اپنے وجود کے بارے میں غیرمطمئن ہیں۔ یہ لوگ آپ کے معاملے میں کچھ کرنے سے قاصر ہیں سوائے اس کے کہ وہ بھی آپ کے وجود میں موجود کمزوریوں اور خامیوں سے انکار کرتے ہیں۔ شکایت کرنے سے آپ کو کچھ حاصل نہیں ہوتا، بس یہ کہ لوگ آپ پر ترس کھانے لگتے ہیں، جبکہ مصیبت کسی کی مددگار نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیں: اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم سرجری کے بعد انگلینڈ سے وطن واپس آگئے
صحیح طرزعمل
اپنے آپ سے ایک سادہ سوال پوچھنے کے ذریعے یہ فضول اور ناخوشگوار رویہ ختم ہو جاتا ہے: "آپ مجھے یہ سب کچھ کیوں بتا رہے ہیں؟" یا "کیا میں کسی طرح آپ کی مدد کر سکتا ہوں؟" ان سوالات کے ذریعے آپ محسوس کریں گے کہ اپنی ذات سے شکوہ و شکایت کرنا بے وقوفی ہے۔ اس روئیے کو اپنانے میں صرف کیا گیا وقت، کسی اور اچھے مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: عیدالاضحیٰ، کیا واقعی اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو دوبارہ کرنا پڑتاہے؟ ایک ایسا سوال جس کا جواب ہر مسلمان کو معلوم ہونا چاہئے
شکوہ و شکایت کے مواقع
صرف دو مواقع ایسے ہیں جب دنیا میں اپنے بدن اور ذات کے متعلق شکوہ و شکایت کو پذیرائی ملتی ہے: پہلا جب آپ کسی کو بتاتے ہیں کہ آپ تھکے ہوئے ہیں، اور دوسرا جب آپ دوسروں کو یہ بتاتے ہیں کہ آپ اچھے نہیں ہیں۔ شکوہ کرنے سے نہ تو آپ کی تھکاوٹ کم ہوتی ہے اور نہ ہی آپ کا احساس "اچھا نہ ہونے" میں کوئی کمی آتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت سے واپس آنے والے مریضوں کا پنجاب میں مفت علاج ہوگا: وزیر اعلیٰ مریم نواز
احساسات کی اہمیت
جب دوسرے افراد آپ کی معمولی مدد کر سکنے کے قابل ہوتے ہیں تو آپ کے احساسات کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ جن لوگوں کے سامنے آپ شکوہ کرتے ہیں، وہ اکثر آپ کے اس طرزعمل کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اگر آپ واقعی اپنی ذات سے پیار کرتے ہیں تو پھر آپ کو شکوہ کرنے کے بجائے اپنے رویے کو بہتر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: گرمی کی شدت، لاہور کے مرد، خواتین اور بھینسیں پانی میں کود پڑیں۔
فضول شکوہ و شکایت کے اثرات
اپنی ذات اور بدن کے متعلق شکوہ شکایت کرنا ایک فضول اور بھونڈا فعل ہے جو آپ کو موثر اور کامیاب زندگی سے دور رکھتا ہے۔ اس کے باعث آپ میں خود پر ترحم پیدا ہوتا ہے اور آپ اپنی محبت و چاہت کو دوسروں کے ساتھ بانٹنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ یہ رویہ خوشگوار تعلقات میں رکاوٹ بن جاتا ہے اور آپ معاشرتی میل جول سے بھی دور ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری پر راج کرنیوالی مقبول ترین اداکارہ روحی بانو کی برسی منائی گئی
خود کو سمجھنا
اگر آپ کبھی کبھار اپنی ذات کے بارے میں شکوہ کر ہی بیٹھیں تو اسے اس تناظر میں دیکھیں کہ یہ آپ کی زندگی کو تاریک سایوں میں دھکیل رہا ہے اور خوشیاں آپ سے روٹھ رہی ہیں۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔








