پُل سے گرایا گیا 7دن کا بچہ جانور کے کاٹنے کے باوجود زندہ بچ گیا
بچے کی حیرت انگیز کہانی
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی ریاست اُترپردیش کے ہمیرپور قصبے میں سڑک پر بنے پُل کے قریب ایک درخت سے لٹکتا ہوا بچہ پایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر داخلہ محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ، 11 منزلہ ہاسٹل کے تعمیراتی کاموں کا معائنہ کیا
ادھر ادھر کی تفصیلات
این ڈی ٹی وی کے مطابق بچے کو اس کے والدین نے پُل سے گرایا تھا جس کی وجہ سے اسے 50 سے زائد چوٹیں آئی تھیں اور اسے کسی جنگلی جانور نے کاٹا بھی تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اجتماع اور امن عامہ کیس؛ پی ٹی آئی کارکنوں کو سزائیں سنا دی گئیں
علاج اور صحت کی بحالی
اس بچے کو ریسکیو کرنے کے بعد جب خانپور کے ایک ہسپتال میں پہنچایا گیا تو ڈاکٹروں کو امید نہیں تھی کہ وہ مزید زندہ رہ پائے گا لیکن مسلسل دو ماہ تک علاج کے بعد وہ اب صحت مند ہے۔
یہ بھی پڑھیں: علی پور چٹھہ میں روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کی 35ویں سالگرہ پر شاندار تقریب، صحافیوں، سماجی کارکنوں اور معززین کی بڑی تعداد میں شرکت
بچے کا نام
خانپور ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کے مطابق ’اس بچے کا نام کرشنا رکھا گیا تھا۔ اس بچے نے 26 اگست کو ایک ایسی زندگی جینے کی شروعات کی جو شاید اس کے لیے نہیں چاہی گئی تھی۔‘
یہ بھی پڑھیں: پولیس سے 5 جعلی مقدمے، بچیوں اور عورت اغوا کرانا کہاں کا انصاف ہے؟ جسٹس محسن کیانی
ہسپتال کا عملہ اور جذبات
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’علاج معالجے کی وجہ سے مکمل صحت مند ہونے کے بعد جب کرشنا نے ہسپتال چھوڑا تو شاید ہی ایسی کوئی آنکھ ایسی ہو جو اشکبار نہ ہوئی ہو۔ کرشنا سے ہسپتال کے عملے اور ڈاکٹرز کی خاصی دل لگی ہو گئی تھی اس وجہ سے اس کے ہسپتال سے جانے پر سب رنجیدہ تھے۔‘
یہ بھی پڑھیں: دو محاذوں پر جنگ میں پھنسے نتن یاہو کا عسکری تجربے والے وزیر دفاع کو برطرف کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟
ڈاکٹر کا بیان
لالی لاجپت رائے ہسپتال خانپور کے پرنسپل سنجے کالا کے مطابق کہ ’ہمیں یہ بچہ ہمیر پور کی ضلعی ہسپتال کی جانب سے ریفر کیا گیا تھا، اس بچے کو اس کے والدین کی جانب سے ایک اونچے پُل سے پھینکا گیا لیکن خوش قسمتی سے وہ نیچے آ کر زمین پر گرنے کی بجائے ایک درخت میں پھنس گیا۔ بچے کی پُشت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے کوؤں اور دوسرے جانوروں نے کاٹا بھی تھا۔ جب کرشنا ہمارے پاس پہنچایا گیا تو اس کے جسم پر 50 زخم تھے۔‘
یہ بھی پڑھیں: امدادی سامان غزہ لانیوالے جہاز میڈلین سے اغوا، 12 امدادی کارکنان حراستی مرکز منتقل
جنم ستھامی اور خوش قسمتی
ہسپتال کے عملے نے بتایا کہ یہ بچہ 26 اگست کو ملا تھا۔ اس روز جنم ستھامی (ہندومت کا مذہبی تہوار) تھی، اس وجہ سے اس کا نام کرشنا رکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کرپٹو کونسل کے سی ای او کی قائم مقام امریکی سفیر سے ملاقات، اب نوجوانوں پر سرمایہ کاری کا وقت ہے: بلال بن ثاقب
نرس کی محبت
ہسپتال کی ایک نرس کے مطابق جب کرشنا زخموں کے درد کی وجہ سے روتا تھا تو اسے وہ لوریاں سنا کر چُپ کرانے کی کوشش کرتی تھیں کیونکہ زخموں کی وجہ سے بچے کو اٹھایا نہیں جا سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ تمام یکطرفہ ٹیرف اقدامات مکمل ختم اور اختلافات کو حل کرنے کا راستہ تلاش کرے: چین
ختم ہونے والا سفر
ڈاکٹر کالا کے مطابق دو ماہ تک جاری رہنے والے علاج معالجے کے بعد کرشنا صحت مند ہو گیا ہے۔ اسے 24 اکتوبر کو پولیس اور چائیلڈ پروٹیکشن کمیٹی کے حوالے کیا گیا۔
والدین کے بارے میں افسوس
ڈاکٹر کالا کہتے ہیں ’اگر والدین اسے نہیں بھی چاہتے تھے تو پُل سے نیچے تو نہ پھینکتے، وہ اسے ہسپتال چھوڑ جاتے، کسی مندر یا مسجد میں چھوڑ جاتے مگر یوں اسے گراتے نہ۔‘








