عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ بدھ کو ایران کا دورہ کریں گے
ایران کا دورہ: رافیل گروسی کا سرکاری اجلاس
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے کے سربراہ رافیل گروسی آئندہ چند روز میں سرکاری حکام کے ساتھ بات چیت کے لئے ایران کا دورہ کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: رکشے کا لالچ اور ‘جلتے پٹاخے’ پر بیٹھنے کی شرط: وہ مذاق جو بیروزگار نوجوان کی جان لے گیا
دورے کی تفصیلات
خبر رساں ادارے نے ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ’ارنا‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل سرکاری دورے پر بدھ کو ایران پہنچیں گے۔ ایجنسی کے مطابق ایران میں رافیل گروسی کی سرکاری ملاقاتیں جمعرات کو ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا نئے بجٹ میں 36 ارب روپے کے نئے اضافی ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ
ماضی کے دورے کے اثرات
رافیل گروسی نے آخری دفعہ مئی میں ایران کے دورے کے دوران اصفہان میں ہونے والی نیوز کانفرنس میں ایران کے جوہری پروگرام کو تقویت دینے کے لئے ٹھوس اقدامات پر زور دیا تھا۔ ان کا یہ دورہ حالیہ امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیاء کپ رائزنگ سٹارز: پاکستان شاہینز نے بھارت اے کو ہرا کر سیمی فائنل میں جگہ پکی کرلی
ڈونلڈ ٹرمپ اور جوہری معاہدہ
خیال رہے کہ اپنے پہلے دور حکومت کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے یک طرفہ طور پر واشنگٹن کو ایک اہم جوہری معاہدے سے الگ کیا تھا جس کا مقصد پابندیوں میں نرمی کے بدلے ایران کے جوہری پروگرام پر قدغن لگانا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: استنبول کے محل میں وزیراعظم شہباز شریف کی ترک صدر طیب اردوان سے اہم ملاقات
یورپی یونین اور معاہدے کی کوششیں
دریں اثنا یورپی یونین کی جانب سے واشنگٹن کو دوبارہ شامل کرنے اور تہران کو دوبارہ معاہدے کی شرائط پر عمل کرنے کے لئے کی جانے والی کوششیں ناکام ہوگئی تھیں۔ ایران بھی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہوگیا تھا جبکہ معاہدے کی تعمیل کی وجہ سے تہران اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے درمیان مسلسل تناو¿ کی صورتحال برقرار رہی تھی۔
ایرانی صدر کی حمایت
جولائی میں عہدہ سنبھالنے والے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے معاہدے کو بحال کرنے کی حمایت کی ہے اور اپنے ملک کی تنہائی کو ختم کرنے پر زور دیا ہے۔








