بھارت کے سابق نائب وزیر اعلیٰ پنجاب کو توہین مذہب پر بیت الخلا صاف کرنے کی سزا
سکھ رہنماﺅں کی جانب سے سزائیں
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سکھوں کے روحانی رہنماﺅں نے بھارتی پنجاب کے سابق نائب وزیر اعلیٰ سکھبیر بادل سنگھ سمیت ان کے والد اور دیگر سکھوں کو توہین مذہب کے الزام میں سزا سنائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے کہیں اور منتقل کیا جا رہا ہے ۔۔؟جیل ذرائع نے حقیقت بتا دی
توہین مذہب کا الزام
بھارتی نشریاتی ادارے 'ٹائمز آف انڈیا' کے مطابق سکھوں کے مقدس مقام 'اکال دل' میں جتھیدار گیانی رگھوبیر سنگھ سمیت پانچ اعلیٰ مذہبی پیشواﺅں نے سکھبیر سنگھ بادل اور ان کے والد سمیت دیگر سکھوں کو توہین مذہب کی سزا سنائی۔
یہ بھی پڑھیں: سیما ہندو مذہب قبول کرچکی، ڈی پورٹ ہونے کی خبروں پر وکیل کا موقف آگیا
سابق حکومت کا پس منظر
سکھبیر سنگھ بادل 2007 سے 2017 تک بھارتی پنجاب کے نائب وزیر اعلیٰ رہے۔ اس دوران ان کے والد پرکاش سنگھ بادل وزیر اعلیٰ رہے اور ان پر سکھوں کے مذہب کی توہین کرنے کے الزامات لگے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس 31 مارچ کو سماعت کے لیے مقرر
دیگر سکھ سیاست دانوں پر الزامات
سکھبیر بادل اور ان کی کابینہ کے دیگر سکھ سیاست دانوں پر بھی توہین مذہب کے الزامات تھے، جن میں سکھ مذہب کو بدنام کرنے والے گرو رحیم سنگھ کی مدد کرنے کا الزام شامل تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آپ لوگ جب جیل میں تھے، میڈیا سے بات کر سکتے تھے، پیشیوں پر آتے تھے مگر یہاں عمران خان کو وٹس ایپ کال پر پیش کیا جارہا ہے، عاصمہ جہانگیر کے سوال پر رانا ثنا اللہ نے کیا جواب دیا؟ جانیے
تنکھیا کا اعتراف
سکھبیر بادل سنگھ نے 'تنکھیا' (مذہبی توہین) کا اعتراف کیا، جس کے بعد اکال دل نے انہیں سزا سنائی۔
یہ بھی پڑھیں: موجودہ صورتحال کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل ہے، ایران اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے: ایرانی مندوب
سزاؤں کی تفصیلات
سابق نائب وزیر اعلیٰ پنجاب کو امرتسر میں گولڈ ٹیمپل کے بیت الخلا صاف کرنے اور وہاں آنے والے عازمین کے جوتے پالش کرنے کی سزا بھی سنائی گئی۔
مزید یہ کہ انہیں بیت الخلا اور جوتے پالش کرنے کے بعد نہا کر لنگر کے برتن بھی دھونے ہوں گے۔ وہ دوسرے مقدس گردواروں میں بھی جا کر یہی خدمات سر انجام دے کر اپنی سزا پوری کریں گے۔
دیگر سیاست دانوں کی سزا
سکھبیر بادل سنگھ کے والد کو دیا گیا خطاب بھی واپس لیا گیا جبکہ ماضی کی پنجاب حکومت کی کابینہ میں شامل دیگر سکھ سیاست دانوں کو بھی توہین مذہب پر مختلف سزائیں سنائی گئیں، جن میں بیت الخلا دھونے، جوتے پالش کرنے اور جھاڑو پونچا کرنے جیسی خدمات شامل تھیں۔








