بھارت کے سابق نائب وزیر اعلیٰ پنجاب کو توہین مذہب پر بیت الخلا صاف کرنے کی سزا
سکھ رہنماﺅں کی جانب سے سزائیں
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سکھوں کے روحانی رہنماﺅں نے بھارتی پنجاب کے سابق نائب وزیر اعلیٰ سکھبیر بادل سنگھ سمیت ان کے والد اور دیگر سکھوں کو توہین مذہب کے الزام میں سزا سنائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا نہ کرنے پر افغان طالبان نے ملک کے دوسرے بڑے چینل شمشاد نیوز کو زبردستی بند کردیا
توہین مذہب کا الزام
بھارتی نشریاتی ادارے 'ٹائمز آف انڈیا' کے مطابق سکھوں کے مقدس مقام 'اکال دل' میں جتھیدار گیانی رگھوبیر سنگھ سمیت پانچ اعلیٰ مذہبی پیشواﺅں نے سکھبیر سنگھ بادل اور ان کے والد سمیت دیگر سکھوں کو توہین مذہب کی سزا سنائی۔
یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد: پی ٹی آئی رکن اسمبلی میر اکبر خان کی کامیابی کالعدم قرار
سابق حکومت کا پس منظر
سکھبیر سنگھ بادل 2007 سے 2017 تک بھارتی پنجاب کے نائب وزیر اعلیٰ رہے۔ اس دوران ان کے والد پرکاش سنگھ بادل وزیر اعلیٰ رہے اور ان پر سکھوں کے مذہب کی توہین کرنے کے الزامات لگے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر ممکنہ امریکی حملہ، ٹرمپ کے پاس فوجی آپشنز کیا ہیں؟
دیگر سکھ سیاست دانوں پر الزامات
سکھبیر بادل اور ان کی کابینہ کے دیگر سکھ سیاست دانوں پر بھی توہین مذہب کے الزامات تھے، جن میں سکھ مذہب کو بدنام کرنے والے گرو رحیم سنگھ کی مدد کرنے کا الزام شامل تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بات سمجھنے کی یہ ہے آزادی کا معاملہ ویسا ہی ہے جیسا آئرلینڈ اور انگلینڈ کے درمیان ہے، گورا سچ سننا پسند کرتا ہے اور جھوٹ سے اسے نفرت ہے.
تنکھیا کا اعتراف
سکھبیر بادل سنگھ نے 'تنکھیا' (مذہبی توہین) کا اعتراف کیا، جس کے بعد اکال دل نے انہیں سزا سنائی۔
یہ بھی پڑھیں: سلیکٹر کا نامناسب رویہ اور فحش سوالات، سابق بنگلادیشی خاتون کرکٹر کے الزامات پر تحقیقات کا فیصلہ
سزاؤں کی تفصیلات
سابق نائب وزیر اعلیٰ پنجاب کو امرتسر میں گولڈ ٹیمپل کے بیت الخلا صاف کرنے اور وہاں آنے والے عازمین کے جوتے پالش کرنے کی سزا بھی سنائی گئی۔
مزید یہ کہ انہیں بیت الخلا اور جوتے پالش کرنے کے بعد نہا کر لنگر کے برتن بھی دھونے ہوں گے۔ وہ دوسرے مقدس گردواروں میں بھی جا کر یہی خدمات سر انجام دے کر اپنی سزا پوری کریں گے۔
دیگر سیاست دانوں کی سزا
سکھبیر بادل سنگھ کے والد کو دیا گیا خطاب بھی واپس لیا گیا جبکہ ماضی کی پنجاب حکومت کی کابینہ میں شامل دیگر سکھ سیاست دانوں کو بھی توہین مذہب پر مختلف سزائیں سنائی گئیں، جن میں بیت الخلا دھونے، جوتے پالش کرنے اور جھاڑو پونچا کرنے جیسی خدمات شامل تھیں۔







