جیل میں قیدیوں سے ملاقات کے اصول و ضوابط جاری، سختی سے عملدرآمد ہو گا

جیل ریفارمز کی نئی ہدایات
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر محکمہ داخلہ کے جیل ریفارمز کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ پیش رفت میں محکمہ داخلہ نے جیل میں قیدیوں سے ملاقات کے اصول و ضوابط جاری کیے ہیں۔ ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے بتایا کہ قیدیوں کی عزیز و اقارب اور لیگل کونسل سے ملاقات جیل قواعد کے مطابق ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پاکستان اب بھی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل کھیل سکتا ہے مگر کیسے؟
ملاقات کے اصول و ضوابط
ایس او پیز میں درج ہے کہ جیل اسیران سے ملاقات کا شیڈول مین گیٹ اور انتظار گاہ میں آویزاں ہوگا۔ آئی جی جیل، ڈی آئی جی ریجن، متعلقہ جیل اور محکمہ داخلہ کا ٹال فری نمبر 1124 واضح درج ہوگا تاکہ دشواری کی صورت میں ملاقاتی رابطہ کرسکے۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کی ‘فائنل کال’: کیا یہ بشری بی بی کی سیاسی شروعات ہیں یا عمران خان کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش؟
سیکیورٹی کے حوالہ سے انتظامات
جیل کے مرکزی دروازے پر ملاقاتیوں کی جامع تلاشی بذریعہ میٹل ڈیٹیکٹر اور واک تھرو گیٹ ہوگی جبکہ خواتین ملاقاتیوں کی تلاشی کیلئے لیڈی سٹاف مامور ہوگا۔ جن اسیران کی ملاقات بوجہ جیل جرائم یا حسبِ ضابطہ بند ہو, ان کی فہرست انتظار گاہ کے دروازے پر آویزاں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: مرغ کی شکل جیسے ہوٹل نے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں نام لکھوا لیا
ملاقاتوں کی تنظیم
انتظار گاہ میں استقبالیہ ڈیسک ہوگا جہاں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ بطور انچارج ملاقات راہنمائی کیلئے موجود ہوگا۔ ایس او پیز میں درج ہے کہ اسیران سے ملاقات کیلئے پہلے آئیں پہلے پائیں کے اصول کو مدنظر رکھا جائے گا۔ یہ بات یقینی بنائی جائے گی کہ ملاقات صرف ملاقات کے دن پر ہو گی اور اصل شناختی کارڈ کے حامل افراد ہی جیل اسیران سے ملاقات کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایم اے میں آرمی، نیوی اور فضائیہ کے کیڈٹس کیلئے مشترکہ تربیتی پروگرام کا آغاز
شکایات کے اندراج کا نظام
جیل انتظامیہ ہر ملاقاتی کی مکمل تفصیل پریزن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم یا رجسٹر میں درج کرنے کی پابند ہوگی۔ ملاقات کے حوالے سے شکایات کا اندراج متعلقہ رجسٹر میں کیا جائیگا اور جیل سپرنٹنڈنٹ شکایت کا ازالہ کرنے کے پابند ہونگے۔
یہ بھی پڑھیں: اب والی اسٹیبلشمنٹ ڈبل گیم نہیں کھیلتی: طلال چوہدری
انحصاری ملاقات کی پابندیاں
قواعد و ضوابط میں درج ہے کہ نوعمر قیدیوں کی ملاقات صرف خونی رشتہ داروں اور خواتین قیدیوں کی ملاقات خونی رشتہ داروں اور شوہر سے کروائی جائے گی۔ سیکیورٹی کے پیش نظر سزائے موت اسیران، خطرناک اسیران، پنشمنٹ بلاک میں بند اسیران کی ملاقات علیٰحدہ دنوں میں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کابینہ نے پارلیمنٹیرینز کی تنخواہ میں اضافے کی منظوری دیدی
ملاقاتوں کی نگرانی
سپرنٹنڈنٹ جیل، ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ یا ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ایگزیکٹو دن میں کم از کم ایک بار ملاقات شیڈ کا دورہ کریں گے تاکہ تمام امور حسب ضابطہ طے پائیں اور ملاقاتیوں کی شکایات کا ازالہ ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں: مغل بادشاہ اکبر کے آخری ایام: باغی بیٹے کے ساتھ اختلافات کی کہانی
ملاقاتیوں کی تخصیص
ملاقاتیوں اور اسیران کو اپنی باری پر گروپ نمبر کے اعتبار سے ملاقات شیڈ میں داخل کیا جائے گا۔ مقررہ وقت پورا ہونے پر گھنٹی بجائی جائے گی جس کے بعد اسیران بعداز تلاشی جیل کے اندرونی حصے اور ملاقاتی اپنے الگ راستے سے شیڈ سے باہر آئیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: شازیل شوکت نے اپنی شادی کا اعلان کر دیا
سامان کی جانچ پڑتال
انچارج ملاقات یقینی بنائیں گے کہ دوران ملاقات کوئی ممنوعہ شے جیل کے اندر نہ جانے پائے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے ہدایت کی ہے کہ جس جیل میں مین گیٹ اور انتظار گاہ میں زیادہ فاصلہ ہو وہاں بزرگ اور معذور ملاقاتیوں کیلئے مناسب کنوینس کا بندوست کیا جائے۔
نظام کی صفائی اور سہولیات
جیل انتظامیہ یقینی بنائے گی کہ ملاقات شیڈ اور ویٹنگ شیڈ میں صفائی ستھرائی، واش روم، پانی، پنکھے اور بنچز کا مناسب انتظام ہوگا۔ سیکرٹری داخلہ پنجاب نور الامین مینگل نے قیدیوں سے ملاقات بارے قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کی ہے۔