9 مئی جلاو گھیراو کیس: شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد اور دیگر پی ٹی آئی رہنماوں پر فرد جرم عائد
لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) - لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق تھانہ شادمان جلانے کے مقدمے میں سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد اور دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شوہر نے بیوی کو قتل کردیا، لیکن کچھ ہی عرصہ پہلے وہ کس جرم میں سزا کاٹ کر جیل سے رہا ہوا تھا؟
فرد جرم اور سماعت کی تفصیلات
انسداد دہشت گردی عدالت لاہور کے جج نے جیل میں ٹرائل کی سماعت کی، جہاں تمام ملزمان کو جیل میں قائم کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا۔ سماعت کے دوران، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، سابق صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد، سابق سینئر صوبائی وزیر میاں محمود الرشید، سینیٹر اعجاز چودھری، سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ اور دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس، صحافی کالونی فیزٹو کیلئے 40کروڑ روپے کی گرانٹ منظور
ملزمان کا صحت جرم سے انکار
خصوصی عدالت کی جانب سے فرد جرم عائد ہونے کے بعد تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کر دیا جس پر عدالت نے 19 دسمبر کو پراسیکیوشن کے گواہوں کو طلب کر لیا۔
9 مئی کے مظاہرے کا پس منظر
واضح رہے کہ 9 مئی کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں بڑے مظاہرے ہوئے۔ اس دوران مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو آگ لگائی گئی جبکہ فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو بھی نذر آتش کیا گیا۔
سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے۔ مظاہرین نے لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بول دیا، جسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے، جبکہ راولپنڈی میں واقع جی ایچ کیو کا ایک گیٹ بھی توڑ دیا گیا۔ اس کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کیا گیا، اور عمران خان اور ان کی پارٹی رہنماﺅں اور کارکنان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے۔








