بیرونی خطرات جاری رہے تو اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے ساتھ تعاون معطل کرسکتے ہیں: ایران
ایران کا اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون معطل کرنے کا امکان
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران نے کہا ہے کہ اگر بیرونی خطرات جاری رہے تو وہ اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے (آئی اے ای اے) کے ساتھ تعاون معطل کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: منگیتر کے کہنے پر شہری کو قتل کرنے والے ملزم کی سزائے موت کالعدم
امریکہ کا دباؤ اور ایرانی رہنمائی
ڈان نیوز نے عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ جمعرات کو ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر نے کہا کہ اگر بیرونی خطرات جاری رہے تو ایران آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کر سکتا ہے۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایک بار پھر انتباہ کے بعد سامنے آیا ہے کہ اگر تہران جوہری معاہدے پر راضی نہیں ہوتا تو امریکا فوجی طاقت استعمال کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کوئی ہو یا نہ ہو ،26 ویں آئینی ترمیم پاس ہو جائے گی: فیصل واوڈا
خلیجی مذاکرات
ایرانی اور امریکی سفارت کار تہران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کا آغاز کرنے کے لئے ہفتے کے روز عمان کا دورہ کریں گے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ کرنے کا اختیار ان کا ہوگا کہ آیا مذاکرات کس سمت میں جا رہے ہیں، اور مذاکرات کے بے نتیجہ رہنے کی صورت میں ایران 'سخت خطرے' میں پڑ جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بالی ووڈ کے لیجنڈ اداکار امیتابھ بچن کا 75 فیصد جگر ناکارہ ہونے کا انکشاف
ایران کے فوجی خطرات کا جواب
آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ مسلسل بیرونی خطرات اور ایران کو فوجی حملے کی صورتحال سے دوچار کرنے کی صورت میں آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو نکالنے اور اس کے ساتھ تعاون ختم کرنے جیسے اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ذولفی بخاری کو امریکی کانگریس کی ٹام لینٹوس کمیشن کے سامنے جانا مہنگا پڑ گیا
نئے مذاکرات کی صورت حال
انہوں نے مزید لکھا کہ ایران میں افزودہ مواد کو محفوظ اور غیر علانیہ مقامات پر منتقل کرنا بھی ایجنڈے میں شامل ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، امریکا کا اصرار ہے کہ تہران کے ساتھ بات چیت براہ راست ہوگی، جبکہ ایران نے زور دیا ہے کہ مذاکرات عمان کے وزیر خارجہ کی ثالثی میں بالواسطہ ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سی این ایس ہاکی ٹورنامنٹ میں پی اے ایف نے آرمی کو 0-4 سے پچھاڑا، کسٹمز اور پورٹ قاسم کا میچ سنسنی خیز ڈرا پر ختم
ایران کے جوہری پروگرام پر تنقید
اپنے پہلے 2017-2021 کے دور صدارت کے دوران، ٹرمپ نے امریکا کو 2015 کے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے اس معاہدے سے دستبردار کر دیا تھا، جس کا مقصد پابندیوں میں نرمی کے بدلے ایران کے حساس جوہری پروگرام کو محدود کرنا تھا۔ ٹرمپ نے وسیع امریکی پابندیاں بھی دوبارہ عائد کر دی تھیں۔
ایران کا مؤقف
اس کے بعد سے آئی اے ای اے کے مطابق، ایران نے یورینیم کی افزودگی پر اس معاہدے کی حدود کو بہت حد تک عبور کر لیا ہے۔ مغربی طاقتیں ایران پر الزام عائد کرتی ہیں کہ وہ اعلیٰ سطح کی فِشن ایبل پیوریٹی تک یورینیم کی افزودگی کر کے جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت تیار کرنے کا خفیہ ایجنڈا رکھتا ہے، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر سویلین توانائی کے مقاصد کے لئے ہے۔








