بیرونی خطرات جاری رہے تو اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے ساتھ تعاون معطل کرسکتے ہیں: ایران

ایران کا اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون معطل کرنے کا امکان

تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران نے کہا ہے کہ اگر بیرونی خطرات جاری رہے تو وہ اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے (آئی اے ای اے) کے ساتھ تعاون معطل کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تعلیم بالغاں کے مراکز ہر گاؤں، شہر اور محلوں میں قائم کر دئیے جائیں، حکومت سرپرستی کرے تو 10 برسوں میں سو فیصد عوام کو خواندہ بنایا جا سکتا ہے۔

امریکہ کا دباؤ اور ایرانی رہنمائی

ڈان نیوز نے عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ جمعرات کو ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر نے کہا کہ اگر بیرونی خطرات جاری رہے تو ایران آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کر سکتا ہے۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایک بار پھر انتباہ کے بعد سامنے آیا ہے کہ اگر تہران جوہری معاہدے پر راضی نہیں ہوتا تو امریکا فوجی طاقت استعمال کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت ایک ’’ضدی بچے ‘‘کی طرح کا کردار ادا کررہا ہے، احسن اقبال

خلیجی مذاکرات

ایرانی اور امریکی سفارت کار تہران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کا آغاز کرنے کے لئے ہفتے کے روز عمان کا دورہ کریں گے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ کرنے کا اختیار ان کا ہوگا کہ آیا مذاکرات کس سمت میں جا رہے ہیں، اور مذاکرات کے بے نتیجہ رہنے کی صورت میں ایران 'سخت خطرے' میں پڑ جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: خبردار ۔۔پہلا سائیبر پیٹرولنگ اینڈ کوئیک رسپانس سیل قائم،کیا مانیٹر اور رپورٹ کیا جا رہا ہے ؟ جانیے

ایران کے فوجی خطرات کا جواب

آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ مسلسل بیرونی خطرات اور ایران کو فوجی حملے کی صورتحال سے دوچار کرنے کی صورت میں آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو نکالنے اور اس کے ساتھ تعاون ختم کرنے جیسے اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی آئی سی آر سی کی صدر سے ملاقات، اہم امور پر گفتگو

نئے مذاکرات کی صورت حال

انہوں نے مزید لکھا کہ ایران میں افزودہ مواد کو محفوظ اور غیر علانیہ مقامات پر منتقل کرنا بھی ایجنڈے میں شامل ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، امریکا کا اصرار ہے کہ تہران کے ساتھ بات چیت براہ راست ہوگی، جبکہ ایران نے زور دیا ہے کہ مذاکرات عمان کے وزیر خارجہ کی ثالثی میں بالواسطہ ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: تھری پارکر کے پہاڑی علاقے کی سیر کرنے گئے 11 سیاح ریلے میں پھنس گئے، ایک ہلاک

ایران کے جوہری پروگرام پر تنقید

اپنے پہلے 2017-2021 کے دور صدارت کے دوران، ٹرمپ نے امریکا کو 2015 کے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے اس معاہدے سے دستبردار کر دیا تھا، جس کا مقصد پابندیوں میں نرمی کے بدلے ایران کے حساس جوہری پروگرام کو محدود کرنا تھا۔ ٹرمپ نے وسیع امریکی پابندیاں بھی دوبارہ عائد کر دی تھیں۔

ایران کا مؤقف

اس کے بعد سے آئی اے ای اے کے مطابق، ایران نے یورینیم کی افزودگی پر اس معاہدے کی حدود کو بہت حد تک عبور کر لیا ہے۔ مغربی طاقتیں ایران پر الزام عائد کرتی ہیں کہ وہ اعلیٰ سطح کی فِشن ایبل پیوریٹی تک یورینیم کی افزودگی کر کے جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت تیار کرنے کا خفیہ ایجنڈا رکھتا ہے، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر سویلین توانائی کے مقاصد کے لئے ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...