ملزمان کو گنجا کرکے ویڈیو چلانے کیس: ایسا کوئی واقعہ دوبارہ ہوا تو متعلقہ ڈی پی او ذمہ دار ہوگا، عدالت
لاہور ہائیکورٹ میں پتنگ بازی اور ہوائی فائرنگ کا معاملہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ میں پتنگ بازی اور ہوائی فائرنگ کرنے والے ملزمان کو گنجا کرنے کے معاملے کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے پورے پنجاب میں اس فیصلے کو سرکولیٹ کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ اگر ایسا کوئی واقعہ دوبارہ ہوا تو متعلقہ ڈی پی او ذمہ دار ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں رمضان کا چاند نظر آگیا، کل پہلا روزہ ہوگا
عدالتی سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے مطابق جسٹس علی ضیا باجوہ کی سربراہی میں ہونے والی سماعت میں عدالت نے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی۔ عدالتی حکم پر ڈی آئی جی آپریشن اور ڈی آئی جی سیکیورٹی عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ بھی عدالت میں موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: احتساب عدالت فیصلے میں وجوہات نہیں، کیس واپس بھیج دیتے ہیں کہ فیصلہ کرکے وجوہات دیں، چیف جسٹس عامر فاروق کے بریت کی درخواستوں پر ریمارکس
ویڈیو کی نمائش اور ڈی آئی جی آپریشنز کا اعتراف
عدالت نے ملزمان کو گنجا کرنے والی ویڈیو چلائی اور ڈی آئی جی آپریشنز سے سوال کیا کہ یہ آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ ڈی آئی جی آپریشنز نے عدالت میں اپنی غلطی تسلیم کرلی اور کہا کہ یہ بہت بڑی غلطی تھی، آئندہ ایسی غلطی نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب جو بھی مواد اپ لوڈ ہوگا وہ متعلقہ ایس پی کی منظوری سے کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان لاہور میں ہونے والی سیریز کے میچز کا وقت تبدیل کرنے کا فیصلہ
عدالت کے تحفظات اور ڈی آئی جی کا وعدہ
عدالت نے کہا کہ ’بڑا اچھا کیا آپ نے ہوائی فائرنگ کرنے والوں کو پکڑا، لیکن یہ جو حرکت ہوئی، عدالت اس کی اجازت نہیں دے گی۔‘ ڈی آئی جی آپریشنز نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسی سنگین غلطی نہیں ہوگی، اور اب کسی کی تذلیل کی گئی تو متعلقہ افسر کے پورٹ فولیو میں لکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: محترمہ بے نظیر بھٹو نے آمریت کے اندھیروں میں جمہوریت کی شمع روشن رکھی اور سیاست کو عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری
پچھلی انڈرٹیکنگ اور عدالت کے مطالبات
عدالت نے کہا کہ چھ ماہ پہلے آئی جی پنجاب کی انڈرٹیکنگ آئی تھی، لیکن پھر بھی وہی کام ہو رہا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ آئندہ ایسا نہ ہو، لیکن عدالت نے کہا کہ ’کوشش نہیں، ہمیں اس کے نتائج چاہیے۔‘
یہ بھی پڑھیں: پشاور میں ڈرونز اور کواڈ کاپٹر اڑانے پر پابندی، دفعہ 144 نافذ
واضح جاری مواد کی کمی
عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ ’یہ جو لوگوں کو گنجا کیا گیا، کیا یہ بات آپ کے علم میں نہیں تھی؟‘ ڈی آئی جی آپریشنز نے جواب دیا کہ ’نہیں، یہ بات میرے علم میں نہیں تھی۔‘
سوشل میڈیا کے حوالے سے بحث
وکیل نے کہا کہ سوشل میڈیا پر جو پیج ہے وہ کسی ڈی آئی جی کا نہیں، بلکہ کسی ٹک ٹاکر کا لگتا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے کارروائی کل تک ملتوی کر دی۔








