کینال منصوبہ اگر ہمارے ہاتھ سے نکل گیا تو پھر احتجاج کیلئے نکلیں گے: وزیراعلیٰ سندھ
مراد علی شاہ کا کینال منصوبے پر موقف
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کینال منصوبہ اگر ہمارے ہاتھ سے نکل گیا تو پھر احتجاج کیلئے نکلیں گے، وزیراعظم کو نتائج کا معلوم ہے، وہ انصاف سے کام لیں۔
یہ بھی پڑھیں: فضل الرحمان کے تحفظات دور کر دیے : شیخ وقاص
کینال منصوبے کی روک تھام
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق کراچی میں کارڈینل ہاؤس جاکر کارڈینل کے ساتھ پوپ جان فرانسس کے انتقال پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام کے مفاد کیخلاف کوئی منصوبہ منظور نہیں کیا جائے گا اور وہ کینال منصوبے کو روکنے کیلئے پرعزم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چکوال، تلہ گنگ میں مسافر بس کھائی میں گرنے سے 5 افراد جاں بحق، 27 زخمی
سندھ حکومت کے اقدامات
انہوں نے کہا کہ منصوبہ کسی نے بھی بنایا ہو، لیکن سندھ حکومت نے اسے منظور نہیں ہونے دیا، جولائی کے بعد چولستان کینالز پر کوئی کام نہیں ہوا، سندھ حکومت نے اہم اقدامات کئے، پیپلز پارٹی نے ہر سطح پر احتجاج ریکارڈ کرایا۔
یہ بھی پڑھیں: فلائی جناح کا احسن اقدام، لاہور اور ریاض کے درمیان براہ راست پروازوں کا آغاز
اجتماعی مقصد اور احتجاج
ان کا کہنا تھا کہ کسی کی نیت پر شک نہیں کر رہے لیکن کسی کے ہاتھوں میں بھی نہیں کھیل رہے، یہ اجتماعی مقصد ہے اور ہمیں کینال منصوبے کو روکنا ہے کیونکہ یہ ملک کی بہتری کیلئے ضروری ہے، اگر یہ معاملہ ہمارے ہاتھ سے نکل گیا تو ہم احتجاج کیلئے نکلیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سٹریٹ موومنٹ ریلیوں کا شیڈول جاری
وکلا کا احترام
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وکلا کا بہت احترام ہے، ان کا جمہوریت کی بحالی کیلئے اہم کردار رہا ہے، سندھ کے تمام سٹیک ہولڈرز سے کہتا ہوں کہ نہروں کے معاملے پر احتجاج ضرور کریں، لیکن سڑکیں بند نہ کی جائیں، تاکہ ہمارے اپنے ہی لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: مخصوص نشستوں پرہم الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن تک کچھ نہیں کرسکتے، ایاز صادق
وفاقی حکومت کی ناکامی
انہوں نے سوال کیا کہ وفاقی حکومت اب تک اس منصوبے کو ختم کیوں نہیں کر رہی؟ وزیر خزانہ نے 19 اپریل کو خط بھیجا کہ سندھ اپنا این ایف سی نمائندہ تجویز کرے، ہم اس پر کام کر رہے ہیں، 14 ماہ بعد وفاقی حکومت نے قومی مالیاتی کمیشن کے نمائندے مانگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ سے منظور شدہ 27ویں آئینی ترمیم کی قومی اسمبلی میں منظوری کل لی جائے گی،وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کاجلد 28ویں ترمیم کا عندیہ
کسانوں کی حالت پر تشویش
مراد علی شاہ نے کسانوں کی حالت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے فارمرز بھی اگلے سال گندم نہ اگانے کا سوچ رہے ہیں، چین میں گندم کی فی ایکڑ پیداوار 60 سے 65 من ہے، ہمیں بھی ٹیکنالوجی اپنانا ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کے سکول میں پہلی اے آئی روبوٹ ٹیچر نے پڑھانا شروع کردیا
کپاس کی پیداوار اور نہروں کا مستقبل
انہوں نے مزید کہا کہ ہم کپاس کی پیداوار بڑھا نہیں سکے اور اب ریگستان کو آباد کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، بھارت کے اندرا کینال کے نتائج چیٹ جی پی ٹی سے چیک کر لیں، نئی نہروں کیلئے اضافی پانی موجود ہی نہیں، ان شا اللہ ہم یہ منصوبہ واپس بھی لیں گے۔
وزیر اعظم سے امیدیں
انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم سندھ کے تحفظات کا احترام کریں گے، انہوں نے یاد دلایا کہ انگریز دور میں بھی زیریں علاقوں کے مفاد میں بالائی علاقوں کے کینال منصوبے مسترد کئے گئے تھے، مجھے پوری امید ہے کہ وزیراعظم انصاف پر مبنی فیصلہ کریں گے۔








