پاکستان کی قیادت میں کئی ملکوں کا “آپریشن سی اسپریٹ” کا آغاز
پاکستان کی قیادت میں بحری آپریشن کا آغاز
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کی قیادت میں قائم کمبائنڈ ٹاسک فورس 151 (CTF 151) نے 21 اپریل سے ایک اہم اور مربوط بحری آپریشن "فوکسڈ آپریشن سی اسپریٹ" کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ (ن) سعودی عرب کے عہدیداران کی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات
آپریشن کا مقصد
اس آپریشن کا مقصد صومالیہ کے ساحلی علاقوں، خلیج عدن اور سوکوٹرا گیپ میں بحری قزاقی اور مسلح ڈکیتی کی روک تھام ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حوثیوں نے تل ابیب پر میزائل داغ دیا، اس دوران اسرائیل جانے والے بھارتی طیارے کو کہاں موڑنا پڑا؟
بحری افواج کی شرکت
آپریشن میں میری ٹائم پیٹرول ایئرکرافٹ اور ہیلی کاپٹرز کی مدد سے سمندر میں گشت اور مشقیں کی جا رہی ہیں۔ اس میں کئی ممالک کی بحری افواج اور سیکیورٹی ادارے حصہ لے رہے ہیں، جن میں جاپانی میری ٹائم سیلف ڈیفنس فورس، پاک بحریہ، پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی، کوریا کی بحریہ، ہسپانوی بحریہ (EUNAVFOR آپریشن اٹلانٹا کے تحت)، جبوتی کی بحریہ اور کوسٹ گارڈ، اور ترکی کی بحری افواج شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخواہ کے گھروں کی فروخت کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر
انسدادِ قزاقی کی مشقیں
آپریشن کے دوران انسدادِ قزاقی کی مشقیں اور مشترکہ گشت جاری ہیں، تاکہ سمندری گزرگاہوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: سیشن جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
علاقائی کوآرڈینیشن
علاقائی کوآرڈینیشن سینٹرز جیسے کہ CMF JMIC، JMICC پاکستان، DCOC کینیا، RCOC سیشلز، RMIFC مڈغاسکر، اور UKMTO دبئی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ ادارے سمندری برادری کے ساتھ حقیقی وقت کی معلومات شیئر کر رہے ہیں، تاکہ ممکنہ خطرات سے بروقت نمٹا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: امیر مقام، گورنر پختونخوا کی ملاقات، صوبے میں حکومت کی ممکنہ تبدیلی پر تبادلہ خیال
مشینری کی معاونت
میرٹائم سیکیورٹی سینٹر عمان اور میرٹائم سیکیورٹی سینٹر انڈین اوشن بھی اس مشن میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں اور معلومات کا تبادلہ یقینی بنا رہے ہیں۔
آپریشن کا اہمیت
"آپریشن سی اسپریٹ" خطے میں امن، تجارت اور سمندری تحفظ کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔








