کینیڈین پارلیمانی انتخابات: حکمراں لبرلز کو حریف کنزریٹوز پر برتری
انتخابات کا وقت ختم
ٹورنٹو(ڈیلی پاکستان آن لائن) کینیڈا کے اگلے وزیر اعظم کو منتخب کرنے کے لیے ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ووٹنگ کا وقت ختم ہوگیا، جس کے بعد نتیجے کے حوالے سے ابتدائی اعدادو شمار بھی آنا شروع ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم پاس ہو گئی ہے، 28ویں کی تیاری کریں، سینیٹر فیصل واوڈا
ووٹنگ کا وقت اور عمل
کینیڈا میں پارلیمانی انتخابات پر ووٹنگ صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک جاری رہی، جس میں شہریوں نے اپنے حق رائے دہی کو استعمال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائی کورٹ نے گندم سکینڈل میں گرفتار افسران کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دیں
امیدواروں کا مقابلہ
کینیڈا کے وزیراعظم اور لبرل پارٹی کے امیدوار مارک کارنی اور کنزرویٹو پارٹی کے پیئر پولی ایو کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع تھا۔ 343 کے ایوان میں اکثریت حاصل کرنے کیلئے کسی بھی پارٹی کو 172 نشستیں درکار ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: 20 روپے رشوت کا الزام، 30 سال جیل کاٹنے والا بےگناہ شخص رہا ہوتے ہی مرگیا
ابتدائی نتائج کی پیشگوئی
خبر رساں ایجنسی کے مطابق، متعدد میڈیا اداروں نے پیشگوئی کی ہے کہ وزیرِ اعظم مارک کارنی کی لبرل پارٹی نے کینیڈا کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی۔
پبلک براڈکاسٹر سی بی سی اور سی ٹی وی نیوز دونوں نے پیشگوئی کی ہے کہ لبرل پارٹی کینیڈا کی اگلی حکومت تشکیل دے گی، تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا پارٹی کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہوئی ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اماراتی ایئر لائن اور دبئی ڈیوٹی فری میں کرپٹو کرنسی سے ادائیگی کی سہولت متعارف
سیٹوں کا ابتدائی تخمینہ
ووٹنگ کے بعد ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق، لبرل پارٹی کو 158 جبکہ کنزرویٹو پارٹی کو 143 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔ اس کے علاوہ بلاک کیوبک کو 24 اور این ڈی پی کو 10 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشہور اداکارہ نے ویٹریس بننے کیلئے اداکاری چھوڑ دی
پچھلے انتخابات کا تناظر
یاد رہے کہ الیکشن سے پہلے لبرلز کے پاس 152 اور کنزریٹوز کے پاس 120 نشستیں تھیں، جبکہ بلاک کیوبک کے پاس 33 اور این ڈی پی کے پاس 24 نشستیں تھیں۔
انتخابی مسائل
یہ الیکشن ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا پر عائد ٹیرف ووٹرز کے ذہنوں پر سوار ہیں۔ اس کے ساتھ ہی شہری علاقوں میں گھروں کی قیمتیں زیادہ ہونا، بے روزگاری کی شرح 6.7 فیصد ہونا اور ہیلتھ کیئر تک لوگوں کی رسائی میں دشواری سمیت دیگر مسائل بھی لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبزول کیے ہوئے ہیں۔








