اتوار کو 2 امریکی ہیلی کاپٹرز کی اچانک پاکستان آمد اور پھر چند گھنٹوں کے بعد بھارت میں لینڈنگ، حیران کن دعویٰ سامنے آ گیا
مقبوضہ کشمیر میں کشیدگی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں دہشتگردی کے واقعہ اور بھارتی الزام تراشی کے بعد دونوں ممالک میں سخت کشیدگی ہے اور جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گاؤں کولوتارڑ کے نوجوان نعمان ارشد نے 35ویں نیشنل گیمز کراچی میں گولڈ میڈل جیت کر علاقہ کا نام روشن کر دیا
فضائی حدود کی بندش
نجی ٹی وی جیونیوز کی رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں نے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہیں اور ایسے میں اتوار کی سہ پہر 2 امریکی ہیلی کاپٹرز نے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے بھارتی شہر احمد آباد کا سفر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز نے پولیو ٹیموں کا تحفظ یقینی بنانے کا حکم دیدیا، عوام سے بھرپور تعاون کی اپیل
ہیلی کاپٹروں کی پرواز
ایوی ایشن ذرائع کے مطابق امریکی رجسٹریشن کے حامل 2 ہیلی کاپٹرز اتوار کی دوپہر ایک بجے بحیرہ عرب پر نچلی پرواز کرتے ہوئے شارجہ سے پہنچے، ویسٹ اسٹار ایوی ایشن اور پرائیویٹ ملکیت کے دونوں لیونارڈو اے ڈبلیو 139 ہیلی کاپٹرز لگ بھگ 2 گھنٹے تک کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر موجود رہے۔
یہ بھی پڑھیں: نو منتخب صدر پی ایف ایف سید محسن گیلانی فٹبال کی ترقی کے لیے پرعزم
احمد آباد کے سفر کی تفصیلات
اس کے بعد سہ پہر لگ بھگ 3 بجے دونوں ہیلی کاپٹر کراچی سے بدین کی طرف روانہ ہوئے اور 9 ہزار فٹ کی بلندی سے سفر کرتے ہوئے سندھ کے شہر چوہڑ جمالی کے قریب سے بھارت میں داخل ہوئے۔ اے ٹی سی ذرائع کے مطابق بھارت میں داخل ہوتے ہی دونوں ہیلی کاپٹرز 11 ہزار فٹ کی بلندی پر چلے گئے اور دونوں ہیلی کاپٹروں نے بھارتی شہر احمد آباد کے ائیرپورٹ پر لینڈ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ارضی کیفیات دیکھتے ہوئے حل نکالا گیا کہ پہلے سکھر والے کنارے سے بھکر جزیرے تک ستونوں والا روایتی پْل بنایا جائے، یہ پل 1885ء میں مکمل بھی ہو گیا
ہیلی کاپٹروں کے مسافروں کی معلومات
رات گئے تک ہیلی کاپٹر احمد آباد میں ہی موجود تھے، ان ہیلی کاپٹرز میں مسافر کون تھے اور انہوں نے کس مقصد کے لیے کراچی اور پھر بھارت کا سفر کیا؟ فوری طور پر معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔
ترجمان کی خاموشی
اس سلسلے میں ترجمان پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی مگر رات گئے تک انہوں نے جواب نہیں دیا۔








