سندھ طاس معاہدے کا احترام کیا جائے: برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی پارلیمنٹ کی تشویش
لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) برطانوی پارلیمنٹ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے Indus Water Treaty کو برقرار رکھنے اور اس کا احترام کرنے کی اپیل کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی پبلک سروس کمیشن نے سی ایس ایس 2026 کے امتحان میں شرکت کرنے والوں کے لئے اہم ہدایات جاری کردیں۔
مقامی کمیونٹی کی بے چینی
روزنامہ امت کے مطابق برطانیہ کے رکن پارلیمنٹ جیمز فرِتھ نے کہا کہ ہمارے حلقے کے بہت سے لوگ آزاد کشمیر، میرپور، کوٹلی اور گجرات سے تعلق رکھتے ہیں اور جنوبی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی سے مقامی کمیونٹی میں بے چینی پھیل رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کئی بار خودکشی کی کوشش کی، انصاف کی منتظر ثنا یوسف کی والدہ رو پڑیں۔
پانی کی رسائی اور معاہدوں کی اہمیت
انہوں نے کہا کہ پانی تک رسائی کو سیاسی ہتھیار نہیں بنانا چاہئے، سندھ طاس جیسے معاہدے خطے میں استحکام کے ضامن ہیں ان کی حفاظت لازمی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گلوکارہ میشا شفیع برطانیہ میں اے آر وائے کے ٹی وی چینل سے ہتک عزت کا مقدمہ جیت گئیں
برطانوی حکومت کی کوششیں
فرِتھ نے برطانوی حکومت کی جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے لئے کوششوں کو سراہتے ہوئے زور دیا کہ برطانیہ، جو تاریخی طور پر اس خطے سے جڑا رہا ہے، مزید فعال سفارتی کردار ادا کرے۔
یہ بھی پڑھیں: بابر اعظم نے ویرات کوہلی سے موازنہ کرنے والے صحافی کو خاموش کرا دیا۔
برطانوی وزیر خارجہ کا بیان
برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لامی نے پارلیمنٹ میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں 3 ملین سے زائد افراد کا تعلق بھارت اور پاکستان سے ہے، ہم نے اس بحران کے آغاز سے اب تک بھارتی و پاکستانی وزرائے خارجہ سے 4 بار بات چیت کی ہے۔
سفارتی معاہدوں کی پاسداری
انہوں نے کہا کہ برطانیہ دونوں ممالک پر زور دیتا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے سمیت تمام سفارتی معاہدوں کی پاسداری کریں، پانی کو کبھی بھی جنگی ہتھیار نہ بنایا جائے۔








