سندھ طاس معاہدے کا احترام کیا جائے: برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی پارلیمنٹ کی تشویش
لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) برطانوی پارلیمنٹ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے Indus Water Treaty کو برقرار رکھنے اور اس کا احترام کرنے کی اپیل کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں 3 دریاؤں میں سیلاب کے باعث 20 لاکھ سے زائد افراد بے گھر اور 2200 دیہات سیلاب سے متاثر ہوئے
مقامی کمیونٹی کی بے چینی
روزنامہ امت کے مطابق برطانیہ کے رکن پارلیمنٹ جیمز فرِتھ نے کہا کہ ہمارے حلقے کے بہت سے لوگ آزاد کشمیر، میرپور، کوٹلی اور گجرات سے تعلق رکھتے ہیں اور جنوبی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی سے مقامی کمیونٹی میں بے چینی پھیل رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلی نیشنل چیف آف آرمی سٹاف ریسلنگ چیمپئن شپ 2026، ’’شیر پنجاب‘‘ چیمپئن بن گئی
پانی کی رسائی اور معاہدوں کی اہمیت
انہوں نے کہا کہ پانی تک رسائی کو سیاسی ہتھیار نہیں بنانا چاہئے، سندھ طاس جیسے معاہدے خطے میں استحکام کے ضامن ہیں ان کی حفاظت لازمی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گرین پارک سٹیڈیم سے بہت سی باتیں جڑی ہیں، ہم کانپوریئے خوشی سے پھولے نہ سما رہے تھے، روی شاستری نے”بوم بوم آفریدی“ پکار کر داد دی
برطانوی حکومت کی کوششیں
فرِتھ نے برطانوی حکومت کی جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے لئے کوششوں کو سراہتے ہوئے زور دیا کہ برطانیہ، جو تاریخی طور پر اس خطے سے جڑا رہا ہے، مزید فعال سفارتی کردار ادا کرے۔
یہ بھی پڑھیں: 2025 کے دوران اصلاحات کا ریکارڈ بریک: 600 سے زائد اقدامات، توانائی سیکٹر سب سے آگے: پاکستان ریفارمز رپورٹ 2026 جاری
برطانوی وزیر خارجہ کا بیان
برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لامی نے پارلیمنٹ میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں 3 ملین سے زائد افراد کا تعلق بھارت اور پاکستان سے ہے، ہم نے اس بحران کے آغاز سے اب تک بھارتی و پاکستانی وزرائے خارجہ سے 4 بار بات چیت کی ہے۔
سفارتی معاہدوں کی پاسداری
انہوں نے کہا کہ برطانیہ دونوں ممالک پر زور دیتا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے سمیت تمام سفارتی معاہدوں کی پاسداری کریں، پانی کو کبھی بھی جنگی ہتھیار نہ بنایا جائے۔








