پہلگام حملے کے بعد انڈیا اور طالبان کے درمیان پسِ پردہ رابطے سامنے آ گئے
خفیہ دورہ
لندن (آئی این پی) افغان طالبان کے نائب وزیر داخلہ اور اہم عسکری رہنما ابراہیم صدر نے حالیہ دنوں انڈیا کا خفیہ دورہ کیا، جس دوران انھوں نے انڈین حکام سے ملاقاتیں بھی کیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پہلگام حملے کے بعد پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پرعمل نہیں کیا، پی ٹی آئی دور میں طالبان کو جیلوں سے رہا کروایا گیا، عابد شیرعلی
تناؤ کا پس منظر
بی بی سی پشتو کی ایک رپورٹ کے مطابق، افغانستان طالبان حکومت کے نائب وزیر داخلہ ابراہیم صدر نے پاکستان اور انڈیا کے ایک دوسرے پر حملوں اور کشیدگی کے عروج پر خفیہ طور پر انڈیا کا سفر کیا۔ اس دوران بی بی سی پشتو کے مطابق ابراہیم صدر نے اس دورے کے دوران انڈین حکام سے ملاقات بھی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں 3800 سرکاری گاڑیوں کے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث ہونے کا انکشاف
طالبان کا اہم عہدیدار
ابراہیم صدر کو طالبان رہنما ملا ہبت اللہ کے قریب سمجھا جاتا ہے اور انھیں طالبان حکومت کے اہم اور اسٹریٹیجک سکیورٹی کے امور سے متعلق فیصلہ سازی میں اہمیت دی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ کیس ؛بانی پی ٹی آئی کی سزا کیخلاف اپیلیں سماعت کیلئے مقرر
انڈین میڈیا کا تبصرہ
انڈین میڈیا نے اس دورے کو اہم قرار دیا ہے کیونکہ طالبان کے ایک سینیئر اہلکار ایک ایسے وقت میں انڈین حکام سے بات چیت کے لیے انڈیا کا دورہ کر رہے تھے جب 22 اپریل کو پہلگام پر حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی افغان وزیراعظم ملا حسن اخوند سے اہم ملاقات
نئی گفتگو کی شروعات
انڈین اخبار سنڈے گارڈیئن نے لکھا ہے کہ طالبان کے ایک ایسے سینئر عہدیدار کے ساتھ خفیہ مواصلاتی چینل کھولنا جو پاکستان کے بارے میں تنقیدی نظریات رکھتے ہیں، ظاہر کرتا ہے کہ انڈیا افغانستان میں نئی حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے اپنے نقطہ نظر پر نظرِثانی کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ائیر بیس ادھم پور اور پٹھان کوٹ میں ائیر فیلڈ کو بھی تباہ کر دیا گیا، سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ
وزیر خارجہ کی بات چیت
ایک حالیہ پیش رفت میں انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے گذشتہ روز (جمعرات، 15 مئی) کو طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ٹیلی فون پر بات کی۔
یہ بھی پڑھیں: نیشنل سائبر کرائم ایجنسی نے فتنہ الہندوستان کا بیانیہ پھیلانے والا سرکاری ملازم پکڑ لیا
شراکت داری کی ضرورت
انھوں نے اپنے سوشل میڈیا اکانٹ ایکس پر لکھا کہ: "میری آج شام افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی کے ساتھ اچھی بات چیت ہوئی۔ پہلگام میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت پر میں ان کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔" انھوں نے افغانستان کے لوگوں کے ساتھ اپنی دیرینہ شراکت داری اور ان کی ترقیاتی ضروریات کے لیے ہماری مسلسل حمایت پر زور دیا۔ ہم نے تعاون کو بڑھانے کے طریقوں پر بھی بات کی۔
ابراہیم صدر کی پشت پناہی
خیال رہے کہ ابراہیم صدر طالبان کے سرکردہ کمانڈروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے غیر ملکی افواج اور سابق افغان حکومت کے خلاف برسوں کی جنگ کے دوران نام نہاد ہلمند کونسل کی قیادت کی تھی۔ وہ امریکی پابندیوں کا شکار طالبان رہنماوں کی فہرست میں بھی شامل ہیں۔








