اپیلٹ ٹربیونل نے شوگر کارٹل پر 44 ارب روپے جرمانے کا کیس دوبارہ سماعت کے لیے بھجوا دیا
اسلام آباد: اپیلٹ ٹربیونل کا فیصلہ
ڈیلی پاکستان آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، اپیلٹ ٹربیونل نے شوگر کارٹل پر عائد 44 ارب روپے کے جرمانے کے کیس کو دوبارہ سماعت کے لیے کمپٹیشن کمیشن میں بھیج دیا۔
یہ بھی پڑھیں: 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس، عدالت نے 14 صفحات اور 79 سوالوں پر مشتمل سوال نامہ بانی پی ٹی آئی کو فراہم کر دیا
کمپٹیشن کمیشن کی ہدایت
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق، اپیلٹ ٹربیونل نے اپنے فیصلے میں اعلان کیا کہ کمپٹیشن کمیشن کو 90 دن کے اندر شوگر کارٹل کیس کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ مزید برآں، یہ بھی واضح کیا گیا کہ کمیشن کا چیئرپرسن جوڈیشل کارروائی میں کاسٹنگ ووٹ استعمال نہیں کرسکتا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی اے نے غیر قانونی ڈیجیٹل مواد پھیلانے پر 10لاکھ سے زائد ویب لنکس اور یو آر ایل بلاک کردیئے
44 ارب روپے کا جرمانہ
2021 میں شوگر ملز پر کارٹل بنانے اور قیمتیں طے کرنے پر 44 ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جس میں دو ممبرز نے جرمانے کے حق میں اور دیگر دو نے مخالفت میں فیصلہ دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: دوسرے ممالک بڑی تعداد میں آ رہے ہیں اور ہم سے ٹریننگ لینے کا کہہ رہے ہیں
چیئرپرسن کے کاسٹنگ ووٹ کا معاملہ
ٹربیونل نے بیان دیا کہ کمیشن کی چیئرپرسن نے اپنے کاسٹنگ ووٹ کے ذریعے دو، دو سے برابر فیصلے کو اکثریت میں تبدیل کیا تھا۔ تاہم، کاسٹنگ ووٹ ختم ہونے سے پرانا فیصلہ دوبارہ دو، دو سے برابر ہو گیا، جس پر چیئرپرسن کو لازماً دوبارہ سماعت کر کے اپنا فیصلہ دینا ہوگا۔
ایسوسی ایشن کا چیلنج
یاد رہے کہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے چیئرپرسن کے کاسٹنگ ووٹ کی بنیاد پر ہونے والے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔








